زہری میں پاکستانی فوج کی جارحیت، مقامی سیاسی رہنما قتل ، متعدد افراد گرفتار و لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری سے اطلاعات ہیں کہ منگل کے روز پاکستانی فورسز نے علاقے میں  جارحیت کے دوران مقامی سیاسی رہنما اور یونین کونسل کے منتخب رکن میر خلیل احمد موسیانی قتل کردیا گیا جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

علاقے میں مکمل طور پراعلانیہ کرفیو نافذ ہے۔

مقامی ذرائع اور خاندان کے افراد کے مطابق صبح کے وقت علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئیں جبکہ بعد ازاں بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل پاکستانی فورسز کی بھاری نفری بلبل زہری میں داخل ہوئی۔ علاقے میں فائرنگ اور تلاشی کی کارروائیاں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران موسیانی قبیلے کے سربراہ اور سابق ضلعی ناظم خضدار سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں میر خلیل احمد موسیانی گولی ماری گئی۔

خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں زخمی حالت میں اپنے ساتھ لے جایا گیا تھا، بعد ازاں ان کی موت کی اطلاع دی گئی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں اپنے مقامی رہنما میر خلیل احمد موسیانی کی قتل اور ان کی میت اہل خانہ کے حوالے نہ کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کارروائی کے دوران بی این پی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور سابق ضلعی ناظم خضدار سردار نصیر احمد موسیانی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے خاندان اور قریبی رشتہ داروں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پارٹی کے مطابق زیر حراست افراد میں میر زہری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد اور دیگر شامل ہیں، جنہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔

بی این پی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ بلبل کراس کے ایک اسکول کو حراستی مرکز اور کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ علاقے میں نافذ کرفیو اور عوامی مقامات پر پابندیوں کے باعث مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سردار نصیر احمد موسیانی اور ان کے خاندان کا تعلق جمہوری سیاست سے ہے اور انہوں نے ہمیشہ آئینی اور سیاسی ذرائع سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

پارٹی کے مطابق میر خلیل احمد موسیانی بی این پی کے ضلعی سینئر نائب صدر اور منتخب یونین کونسلر تھے۔

بی این پی نے مطالبہ کیا ہے کہ میر خلیل احمد موسیانی کی میت فوری طور پر ان کے ورثا کے حوالے کی جائے، تمام زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے یا انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران بلبل کراس کا اسکول اور دیگر عمارتیں بطور فوجی کیمپ استعمال کی جارہی ہیں۔ جبکہ علاقے میں آمدورفت پہ مکمل پابندی عائد ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے سینئر رہنماوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے خضدار کے علاقے بلبل زہری میں پارٹی کے سینئر رہنما، سابق ڈسٹرکٹ ناظم اور موسیانی قبیلے کے چیف سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر فورسز کے مبینہ چھاپے، ان پر تشدد اور ان کے بیٹوں سمیت گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے اسے حکومت کا شرمناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کو بلوچستان میں جاری ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کے موقع پر بی این پی کے مرکزی قائدین آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، اختر حسین لانگو، موسی بلوچ، احمد نواز بلوچ، صمند بلوچ، ثنا بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سردار نصیر احمد موسیانی نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا ہے، ان کے خلاف یہ کارروائی بلوچستان میں جمہوری سیاست کے وجود پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر کے خلاف سیاسی و آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوںنے زہری میں سردار نصیر موسیانی کے بیٹوں سمیت گرفتاری کیخلاف 4 جون کو بلوچستان بھر میں احتجاج کااعلان کیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article