بلوچستان کے ضلع چاغی میں پاکستان کے جوہری دھماکوں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر کلن میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے ضلع چاغی میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے جوہری دھماکوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور ان کے طویل المدتی ماحولیاتی، انسانی اور سیاسی اثرات کو اجاگر کرنا تھا۔

بلوچ تارکینِ وطن نے مظاہرے میں شرکت کی اور بلوچستان کے عوام، ماحول اور آنے والی نسلوں پر جوہری دھماکوں کے تباہ کن اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلائی۔

مظاہرے کے دوران مقررین نے انگریزی اور جرمن زبانوں میں خطاب کیا اور پاکستان کے جوہری دھماکوں کے بعد چاغی اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے رہائشیوں کو درپیش ماحولیاتی تباہی، صحت کے بحران، سیاسی جبر اور انسانی مسائل پر روشنی ڈالی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اکبر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام 28 مئی کو جشن کے دن کے طور پر نہیں بلکہ اپنی تاریخ کے ایک دردناک باب کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چاغی کے پہاڑ آج بھی جوہری دھماکوں سے پیدا ہونے والے مصائب کے گواہ ہیں، جن کے اثرات نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے بلوچ شہداء، جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد، سیاسی قیدیوں اور برسوں سے درد اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنے والے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیں ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ قربانی، انصاف اور انسانیت کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔

مجیب عبداللہ بلوچ نے جرمن زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری دھماکوں نے بلوچستان کے بے شمار خاندانوں کے لیے خوف، بیماریوں اور طویل المدتی مشکلات کو جنم دیا۔ انھوں نے زور دیا کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں خطے کا ماحول اور قدرتی حسن شدید متاثر ہوا۔

آصف بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں 28 مئی کو یومِ سوگ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انھوں نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مسلسل توسیع پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جوہری دھماکے ایک ایسے پسماندہ اور غریب علاقے میں کیے گئے جہاں نہ مناسب حفاظتی انتظامات موجود تھے، نہ انخلا کے منصوبے اور نہ ہی طویل المدتی طبی تحقیق کا کوئی بندوبست کیا گیا۔ ان کے مطابق مقامی آبادی آج بھی کینسر، پیدائشی بیماریوں، ماحولیاتی تباہی، موسمیاتی مشکلات اور معاشی بدحالی کا سامنا کر رہی ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جوہری احتساب کے مسئلے پر اصولی مؤقف اختیار کرے اور جوہری تخفیفِ اسلحہ کے ذریعے علاقائی اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت کرے۔

لقمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام آج بھی چاغی کے پہاڑوں میں کیے گئے جوہری دھماکوں کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دھماکوں نے نہ صرف ماحول اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچایا بلکہ مقامی آبادی کو سنگین صحت کے خطرات اور طویل المدتی انسانی مسائل سے بھی دوچار کیا۔ انھوں نے زور دیا کہ جوہری ہتھیار صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی ٹیموں کو بلوچستان تک رسائی دی جائے تاکہ وہ جوہری دھماکوں کے انسانی، ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات کا جائزہ لے سکیں۔

مظاہرین نے پاکستانی ریاست کے خلاف نعرے لگائے اور بین الاقوامی و یورپی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ چاغی اور بلوچستان کے دیگر متاثرہ علاقوں میں موسمیاتی، ماحولیاتی اور انسانی حالات کے بارے میں آزاد تحقیقات اور سائنسی مطالعات کا آغاز کریں۔

منتظمین نے عوامی آگاہی میں اضافے کے لیے انگریزی اور جرمن زبانوں میں معلوماتی پمفلٹس بھی تقسیم کیے۔

مقررین نے بلوچستان کے عوام کی مشکلات اور مصائب کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کے مطالبے کا اعادہ کیا اور عالمی انسانی حقوق اور ماحولیاتی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ خطے میں جوہری دھماکوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article