سندھی قوم پرست رہنما قادر مگسی نے بلوچستان سے اغوا ہونے والے سعید میمن کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ 17 مئی سے لاپتہ سندھ دوست لکھاری اور قومی کارکن سعید میمن کے بارے میں تاحال کوئی خبر نہیں مل سکی، جس کے باعث سندھ کے تمام قومی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سعید میمن کا خاندان سندھ کی قومی جدوجہد میں اہم اور تاریخی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے بھائی ڈاکٹر عبدالحمید میمن، جو سندھ ترقی پسند پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ہیں، اپنی پوری زندگی سندھ کی قومی جدوجہد کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ ایسے خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کا لاپتہ ہونا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ 17 مئی کو بلوچستان کے علاقے سے سعید میمن کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا، جس کے بعد آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں بلوچستان کی قومی اور سیاسی قیادت سے مختلف رابطے کیے ہیں مگر کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ سعید میمن کے دل کی بائی پاس سرجری ہو چکی ہے، جس کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے مزید خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ، دوست، ساتھی اور پوری سندھ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کی قومی اور سیاسی قیادت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور سعید میمن کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سعید میمن کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ سندھ کے شعور کا قتل تصور کیا جائے گا، اور اس سے ہونے والا نقصان پوری سندھ کا نقصان ہوگا۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے وفاقی حکومت، متعلقہ اداروں اور بلوچستان کی سیاسی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ سعید میمن کو بغیر کسی تاخیر کے بازیاب کرا کے محفوظ طریقے سے سندھ واپس لایا جائے۔