کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس کے باہر جاری خدیجہ بلوچ کے لیے 28 روزہ دھرنا بالآخر ختم کر دیا گیا ہے۔
خدیجہ بلوچ کو کسی جرم یا قانونی جواز کے بغیر حراست میں لیا گیا تھا، جس کے خلاف ان کے اہلِ خانہ گزشتہ چار ہفتوں سے سخت موسم اور مسلسل مشکلات کے باوجود سراپا احتجاج رہے۔
دھرنے کے دوران خاندان نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ ان کی جدوجہد انصاف، سچائی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے ہے۔ شدید گرمی، تھکن اور ریاستی بے حسی کے باوجود ان کی آواز کمزور نہیں ہوئی۔
گذشتہ روز منعقدہ پریس کانفرنس میں خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ نے دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ بلوچ نوجوانوں، طلبہ اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے ایک منظم سلسلے کا حصہ ہے، جس کے خلاف پوری بلوچ قوم کو آواز اٹھانی چاہیے۔
خاندان نے خبردار کیا کہ اگرخدیجہ بلوچ کو فوری طور پر بازیاب نہ کیا گیا اور اسے بحفاظت گھر واپس نہ پہنچایا گیا تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔