بلوچستان صورتحال تشویشناک، سیکورٹی فورسز غائب،ممبر پارلیمنٹ اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے، رکن اسمبلی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں امن و امان پر اربوں روپے خرچ کر نے کے باوجود صورتحال شدیدتشویشناک ہے،سیکورٹی فورسز کیمپوں تک محدود ہیں،پولیس غائب ہے،ارکان اسمبلی اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے۔

ان خیالات اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی نے بلوچستان اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اربوں روپے امن و امان پر خرچ کر رہی ہے لیکن بلوچستان میں امن کہیں نظر نہیں آتا۔ پولیس غائب ہے، ایف سی شام پانچ بجے کیمپوں کو واپس چلی جاتی ہے ۔

عمرانی نے بلوچستان کے وزیر داخلہ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل سننے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قبائلی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور عوام اپنے علاقوں میں سڑک کے راستے نہیں جا سکتے۔ "ہم پہلے کراچی جاتے ہیں، پھر سکھر کے راستے اپنے علاقوں میں پہنچتے ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے تین اہم روڈ، خضدار-ژوب، نصیر آباد اور دیگر راستے بند ہیں جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

عمرانی نے زور دیا کہ بلوچستان میں لڑائی کو روکنے کی فوری ضرورت ہے اور کہا کہ "ہم جرگہ لے کر جائیں گے اور فریقین سے کہیں گے کہ جنگ بند کریں۔”

انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور وزراء تک محفوظ نہیں ہیں۔ نوابزادہ طارق مگسی سمیت کئی رہنما اپنے علاقوں میں سڑک کے ذریعے نہیں جا سکتے۔

عمرانی نے کہا کہ "جب آپ اپنے وزیر کو تحفظ نہیں دے سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں، دل چاہتا ہے کہ اس اسمبلی کا بائیکاٹ کردوں۔”

بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تنظیمیں شاہراہوں اور شہروں پر کنٹرول قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز پر مہلک حملے کر رہی ہیں اور سرکاری املاک و تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا کر اپنی موجودگی کا بھرپور اظہار کر رہی ہیں۔ دوسری جانب سیکورٹی فورسز کیمپوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article