بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی علاقے سربندن میں ایک کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ۔
ضلع گوادر کے ساحلی علاقوں میں دو روز کے دوران یہ دوسرا کچھوا ہے جو مردہ حالت میں ملا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز پسنی کے جڈی ساحل پر بھی ایک کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔
مقامی صحافی ظریف بلوچ کے مطابق ضلع گوادر کے ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں کچھوؤں کی ہلاکت ایک المیہ بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گوادر کے مختلف ساحلی علاقوں سے بڑی تعداد میں کچھوؤں کے خول بھی ملے ہیں۔
انہوں نے کچھوؤں کی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیر پائیدار ماہی گیری، پلاسٹک اور آبی آلودگی سمیت انسانی مداخلت کے باعث کچھوے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھوؤں کی اصل تعداد میں ہلاکتیں اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔
ظریف بلوچ نے ماحولیات کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔