یہ تحریر ماہنامہ سنگر اکتوبر2013کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔قارعین کےلیے ادارہ اسے واپس شائع کر رہا ہے
بلوچ قوم اپنی بقا اور بین لاقوامی برادری میں اپنے جدا گانہ آزاد قومی تشخص کے حصول اور قومی غلامی سے نجات کیلئے جس جراتمندی، ثابت قدمی اور شعوری و نظریاتی با لیدگی کے ساتھ غیر مصالحانہ جدو جہد کر رہی ہے،اس کی نظیر سوائے غلامی و جبر کیخلاف بر سر پیکار زندہ اقوام کے علاوہ کہیں نہیں ملتی،یہ خصوصیت بلوچ قو م کے منفرد غیور، بہادر پر خلوص اور انسان دوستی کے حامل مزاج اور روایات کا ہی نتیجہ ہے کہ بر طانوی استعمار سے لے کر مو جودہ پا کستانی قا بض قو توں کے جبری تسلط کیخلاف جنگ آزادی یا تحریک مزاحمت برائے قومی آزادی آج تک جاری ہے،اس جنگ یا تحریک کو آزادی کے حصول تک زندہ و قائم رکھنے میں جس فکر وخیال نے اہم و بنیادی کردار ادا کیا ہے وہ گہرائی کی حد تک قو می احساس غلامی کے علاوہ قابض استعماری قو توں کی عسکری طاقت سے مر عوب ہوئے بغیر اپنی دھرتی ماں کی مٹی کا قرض اتارنے کا دل و دماغ میں پایا جا نے والا احساس ذمہ داری ہے،جسے عملی جا مہ پہنا نے میں وہ انقلابی نظریہ قوت محرکہ کی حیثیت رکھتا ہے جو انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال بالا دستی جبر واستبداد اور قومی،نسلی و طبقاتی محکومی و غلامی کے مکمل خاتمے کے سا ئیٹیفک اقتصادی و سیاسی اور سماجی پرو گرام کا حامل ہے،جس کا نمایاں عکس بلوچ قومی تحریک کے سیاسی و اقتصادی اہداف اور اغرا ض و مقاصد کی صورت میں واضح نظر آیا ہے،اس فکر و پرو گرام نے بلوچ قوم کو نظر ی اعتبار سے اُن تمام اقوام اور طبقات کی صف میں شا مل کر دیا ہے جو قومی و طبقاتی غلامی کیخلاف مسلسل بر سر پیکار رہیں جو اب بھی اس تا ریخ ساز عمل میں ہیں،بلوچ قوم کی بیرونی استعماری قو توں کی محکومی و با لا دستی سے آزادی کی جدو جہد کی تا ریخ ڈیڑھ سو سالوں سے زائد عر صے پر محیط ہے،اتنی طویل جدو جہد کی مثال آئر لینڈ سمیت چند محکوم اقوام و خطوں میں نظر آتی ہے،یہ کہا جا سکتا ہیکہ استعماری قو تیں اُن یا دوں اور تا ریخ کو بلو چ قوم کے دل دماغ سے مٹانے میں نا کام رہی ہیں جو تا ریخی طور پر بلوچ قوم کی کرہ ارض پر اس کے اپنے آزاد وطن اور جدا گانہ قو می تشخص کے حوالے سے ہیں لیکن تا ریخ سے سبق سیکھنے کے بجا ئے بلوچ سر زمین پر قا بض قو تیں جبر واستبداد کی تا ریخ کو پہلے سے کہیں زیا دہ درندگی کے ساتھ دوہرا رہی ہیں،اپنی سر زمین کو بیرونی و استعماری قبضے سے آزاد کرا نے کا فکر و عمل رکھنے والے بلوچ فر زندوں کی قتل و غارتگری اور قید و تشدد کی سامراجی روایات اگر چہ نئی نہیں ہیں تا ہم اس بار یہ گھناونی روایات درند گی و حیوانیت کی تمام حدیں پار کر چکی ہیں،بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کی پاکستانی فور سز اور ان کے خفیہ اداروں کی مہم بلوچ نسل کشی کی مہم بن چکی ہے،اس نسل کش مہم میں درندگی اور سبفا کیت کی جو مثا لیں قا ئم کی جا رہی ہیں،اس سے ظا ہر ہو تا ہیکہ پا کستا نی قا بض قو تیں نہ صرف بلو چستان کی سر زمین اور وسا ئل پر اپنا قبضہ بر قرار رکھنا چا ہتی ہیں بلکہ بلوچ قوم کو بھی ریڈ انڈین یاقدیم آسٹریلوی با شندوں کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دینے یا انہیں اپنی سر زمین سے بید خل کرنے کی خوا ہش مند ہیں،اس کے علاوہ درندہ صفت سفاکیت کا چنگیزی عمل پاکستانی بالادست طبقے کا بلوچ قوم کیخلاف گہری نفرت اور عداوت کو بھی آشکار کرتا ہے۔
اس سفا کیت کا بد ترین مظاہرہ سیاسی کار کنوں،طلباء،نو جوانوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے سر گرم کار کنوں سمیت مختلف شعبہ ہا ئے زند گی سے تعلق ر کھنے والے ہر عمر کے بلوچ فر زندوں کی اغوا ء نما گرفتا ریوں و گمشد گیوں کے بعد ان کی تشدد زدہ مسخ شدہ لا شوں کی ویرا نوں سے بر آمدگی کے انسا نیت سوز المیوں کی صورت میں سا منے آرہا ہے،گزشتہ چند سالوں میں سینکڑوں لا پتہ کئے گئے بلو چوں کی تشدد زدہ مسخ لا شیں ویرانوں میں پھینکی جا چکی ہیں،ان تمام بلوچ شہداء کو ماورائے قانون و عدالت گرفتار کرکے ریاستی حراست میں قتل کیا گیا اور یہ سلسلہ تادم تحریر جا ری ہے۔پاکستانی فور سز اور خفیہ اداروں کی یہ سفا کیت کئی سوال پیدا کر ر ہی ہے،بعض حلقے حیران ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی وجو ہات ہیں کہ پا کستانی حکمران قبضہ تو اپنی جگہ بلو چوں کواذیت ناک طریقے سے مٹانے کے در پے ہیں،اس سوال کا جواب کئی پہلووٗں کا حامل ہے،جس میں سب سے نمایاں پہلو بلوچ قوم کا بیرو نی قبضے اور قو می غلا می کا گہرا ئی تک احساس کر تے ہوئے شعوری طور پربا لغ نظر ہو نا ہے،بلوچ قوم میں پائے جا نے والے قومی غلامی کے احساس اور اس سے آزادی کے انقلا بی شعور نے قا بض قو توں کے پر فریب دلا ئل، تعلیمی و ثقافتی استعماری یلغار،غیر حقیقی اور سامراجی مقا صد کی حا مل تا ریخ کی تد ریس حقیقی بلوچ تا ریخ کی تنسیخ اور علم و ادب کے نام پر قا بض قو توں کی تہذیب کے پھیلاؤ اور منفی سیاسی پرو پیگنڈے کے پس پشت کار فر ماسامراجی مقاصد کو بے نقاب کر دیا ہے،یہ اسی انقلا بی شعور اور فکری پختگی کا نتیجہ ہیکہ تمام تر کو ششوں اور سا زشوں کے باوجود پا کستانی قابض قو تیں بلوچ قوم کو ذہنی طور پر غلام نہیں بنا سکی ہیں،لہٰذا خیا لات پر قابو نہ پا سکنے کے با عث اب یہ حل ڈھو نڈا گیا ہے کہ جن بلوچ جسموں میں آزادی پسند انقلابی خیا لات و نظر یے کے حا مل دماغ پا ئے جا تے ہیں ان جسموں کو اس طرح چیر پھاڑ کر کچل دیا جا ئے کہ کوئی دوسرا ان خیا لات و نظریات کو اپنے غور فکر کا حصہ نہ بنا سکے۔
کہا جا تا ہیکہ قابض قو تیں محکوم و غلام اقوام کو اپنے زیر قبضہ رکھنے کیلئے سب سے پہلے اُنہیں ذہنی طور پر غلام بنا نے کی کو شش کر تی ہیں جس کیلئے وہ متذکرہ با لا نفسیاتی و نظر یا تی اور تعلیمی اور ثقا فتی ذرا ئع استعمال کرنے کے علاوہ مالی مفا دات و مرا عات سے نوازنے کے حربے بروئے کار لاتی ہیں،مگر جب کسی محکوم و غلام سماج میں احساس غلامی اور اس سے نجات کا انقلابی شعور وسعت اختیار کر جائے وہاں یہ حربے نا کام ہو جا تے ہیں،اور اگلا مر حلہ طا قت کا بے رحمانہ استعمال بے دریغ طور پر آزمایا جا تا ہے،لہٰذا اس حوالے سے یہ امر خوش آئند ہیکہ بلوچ قوم اب ذہنی غلا می سے نکل چکی ہے اور اب ما سوائے طا قت کے زور پر کی جا نے والی بیرونی و استعماری حکمرا نی کے کسی دو سرے عنصر کو حتمی منزل کے حصول میں بڑی رکا وٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،لیکن قا بض قو تیں بھی ذہنی تبدیلی کو بھا نپ چکی ہیں اس لئے وہ بلوچ قوم کی نسل کشی کو اپنی بقاء اور بالا دستی کاآخری چارہ کار خیال کر رہی ہیں، جس کا مظا ہرہ بلوچ گدا نوں،دیہا توں اور شہروں میں آئے روز فوجی کار وا ئیوں اور اس میں عام بلو چوں،خوا تین بچوں اور بو ڑھوں سمیت ہر عمر اور شعبہ زندگی کے افراد کو نشانہ بنانے کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرا طریقہ کار درندگی و سفا کیت کی اپنی مثال آپ ہے۔یہ حیوانی طریقہ ”اٹھاوٗ،مارو اور پھینکو“ہے،جس کا سب سے زیادہ نشانہ اُن بلوچ فرزندوں کو بنایا جا رہا ہے جو انقلابی نظریے اور قلم سے لیس ہیں،پہاڑوں میں بلوچ آزادی پسند گوریلوں کے ہاتھوں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے والی پاکستانی فورسز اور ان کی خفیہ ایجنسیاں اُن نہتے بلوچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جن کے ہاتھوں میں بلوچستان پرجبری قبضہ کیخلاف اور بلوچ قومی آجوئی کے حق میں لکھے ہوئے نعرے و مطالبات والے بینرز ہیں، یہ نہتے بلوچ اس لئے قا بضین کیلئے انتہائی خطرناک قرار پائے ہیں کہ یہ تقریر و تحریر اور علمی و ادبی سر گر میوں کے ذر یعے اقوام عالم کی تو جہ بلوچ قوم پر ڈھائے جا نے والے مظالم کی طرف مبذول کرا رہے ہیں،ان کی تقریروں و تحریروں اور فنی تخلیقات کا خاصہ یہ بھی ہیکہ اس سے بلوچ قوم میں غلامی سے نجات کا شعور و جذبہ مزید گہرائی اور وسعت اختیار کر رہا ہے،انہی علمی شعور اور فنی صلا حیتوں سے لیس بلوچ فر زندوں میں ایک درخشاں نام حاجی عبدالرزاق کا ہے،جو اپنی علمی و فنی صلا حیت اور بے خوف انقلابی عمل کے ذر یعے بلوچ قو می تحریک آ جو ئی کے پھیلاؤ میں اہم کر دار ادا کر رہا تھا،شہید رزاق بلوچ نے فکری و سیاسی طور پر کرا چی میں آباد بلوچ قوم کی بلو چستان میں جاری قو می تحریک آجوئی کے سا تھ گہری وا بستگی استوار کرنے میں دن رات محنت کی،سیاسی و نظریا تی و علمی اور بلوچ ادبی و ثقا فتی سر گر میوں میں شہید کا مریڈرزاق بلوچ،ہمیشہ انتہائی سر گرم اور پیش پیش رہے،کراچی میں لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے منعقدہ بھوک ہڑتالی کیمپوں،مظاہروں،ہڑتالوں پریس کانفرنسوں و اخباری بیانات،سیمینار زواسٹڈی سر کلز کے انعقاد اور بلوچ مسلے سے متعلق مختلف پارٹیوں و تنظیموں کی جانب سے منعقدہ سیاسی پروگراموں میں شہید رزاق بلوچ منتظم یا شرکت کنندہ کے طور پر شامل رہے،آپ بلوچی زبان کی تحریر و تدریس اور اشاعتی کاموں میں بھی کافی سرگرم رہے،اس کے ساتھ ساتھ آپ نے بلوچ صحافت کے ساتھ بھی اپنا رشتہ جوڑے رکھا،روزنامہ”توار“جو بلوچستان اور بلوچ قوم سے متعلق تمام سیاسی و اقتصادی اور سماجی حالات کی حقیقی شکل سامنے لانے کے باعث شروع دن سے ہی پاکستانی قابض قوتوں کے دل و دماغ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے کے ساتھ آپ آغاز سے ہی منسلک ہوگئے،جہاں اخبار کے مختلف شعبوں میں آپ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے رہے،اس دوران پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے روز نامہ ”توار“کے گرد نہ صرف گھیرا تنگ اور انہیں حراساں کیا گیا،بلکہ کئی بار مختلف نوعیت کے حملے بھی کئے گئے،اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے متواتر تعاقب اور اغوا و قتل کی کوششوں کے تحت ”توار“کے سینئر دوستوں کیلئے وہاں کام کرنا محال بنا دیا گیا ایسے مشکل وقت میں شہید حاجی رزاق ”توار“ کے ساتھ باقاعدگی سے وابستہ رہے،اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے آخری دم تک نبھاتے رہے۔اس کے علاوہ آپ کی دیگر نظریاتی و علمی کوشش بھی تاریخی حییثت رکھتی ہیں،جن میں شہرہ آفاق کتاب ”انسان بڑا کیسے بنا“جو سابقہ سودیت یونین کے شعبہ دار اشاعت ترقی ماسکوکی شائع شدہ تھی کا بلوچی زبان میں ترجمہ قابل ذکر ہے،ترجمہ شدہ یہ کتاب تا حال زیر طبع ہے۔معاشی بد حالی اور وسائل کی کمی کے باعث شہید کا مریڈرزاق بلوچ اپنی تمام تر خواہش کے باوجود اس کی طباعت نہ کرا سکے، یہ کتاب نسل انسانی کے ارتقاء اور اس کی تمدنی وتہذیبی زندگی کے آغاز ومختلف مراحل سے گذرنے کے بارے میں لکھی گئی ایک ایسی داستان ہے جو بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر عمر کے افراد کو انسانی تاریخ کے مادی اور حقیقی پہلوؤں سے آگاہ کرتی ہے، اور ان کے تاریخی وسماجی مظاہر اور ان میں آنے والے تغیر و تبدل کا سائنسی تجزیہ پیش کرتی ہے، اس کتاب کے مطالعے سے قاری نظریاتی وعلمی اعتبار سے تمام سماجی مظاہر کی طرف تو ہم پرستی وقدامت پسندی کے رحجانات سے متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور سائنسی رویہ اختیار کرتا ہے، شہید رزاق بلوچ کی یہ ترجمہ شدہ کتاب اگر شائع ہوتی تو جہاں یہ بلوچی زبان وادب میں ایک گرانقد راضافہ ہوتا وہاں بلوچ قومی شعور کی مادی اور سائنسی نظریاتی بنیادوں کو مزید وسعت بخشتی، اس تناظر میں ضروری ہیکہ شہید کا مریڈ رزاق بلوچ کی اس فکری و علمی کا وش کو عملی شکل دیتے ہوئے اس کتاب کو جلد شائع کرایا جائے،
شہید رزاق کی اگر شخصی صفات کا جائزہ لیا جائے تو آپ عمومی سماجی تعلقات میں بھی بڑے صاف گو، پر خلوص نیت، انسانیت پرور اور ایک ہمدرد وملنسار شخصیت کے مالک تھے، شہید رزاق کے ساتھ زندگی کے سیاسی وسماجی آیام گزارنے والے جانتے ہیں کہ دروغ گوئی، دھوکہ فریب،وعدہ خلافی اور ذاتی غرض وفائدے کیلئے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوئی ایک بھی جھلک آپ میں کبھی نہیں دیکھی گئی، اور نہ ہی آپ میں کسی جگہ تکبر، غرور،تنگ نظری اور مردم بیزاری کا شائبہ تک نظر آیا، بلکہ آپ عجزو انکساری اور مجلس پسندی ومہمان نوازی اور محکوم و مظلو م د وستی کا پیکر تھے، مہمان دوستی اور انسان دوستی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے گھر ہر وقت مہمانوں اور سیاسی وفکری دوستوں کی آمد رہتی،اپنی سادہ اور درویش صفت طبیعت اور مزاج کے باعث آپ ہر جگہ احترام اور محبتیں سمیٹتے رہے، آپ محکوم وغلام اقوام اور مظلوم طبقات کی آزادی ونجات کے انقلابی نظریے مارکسزم سے متاثر ہونے کے ناطے بین الاقوامیت پسند چے گو یرا کے اس قول کا عملی وفکری مظہر تھے کہ”دنیا میں کسی بھی جگہ کسی کے بھی ساتھ ہونے والی زیادتی وناانصافی کو پوری شدت سے محسوس کرو، ایک انقلابی کی یہی خوبصورت صفت ہے“ اس قول کی عملی عکاسی شہید کامریڈرزاق کی گفتگو وتحریر سے لے کر عملی میدان میں ہر جگہ نظر آئی۔
بلوچ قومی تحریک میں شہید رزاق بلوچ کا کردار اپنی مثال آپ ہے، اپنے اسی کردار کی بدولت آپ بلوچ نیشنل موومنٹ کی مرکزی قیادت کا حصہ بنے، اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر اپنی قومی تنظیمی وسیاسی ذمہ داریوں کو بھر پور طریقے سے ادا کرتے رہے، جن دنوں آپ بی این ایم کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب ہوئے اس دوران بی این ایم پاکستانی قابض فورسز اور خفیہ اداروں کے شدید زیر عتاب تھی جس میں آئے روز شدت آتی جا رہی تھی، بی این ایم کے چیئر مین واجہ غلام محمد بلوچ، مرکزی رہنما لالہ منیر کی بی آر پی کے رہنما شیر محمد بلوچ سمیت اغواٗنما گرفتاری اور دوران گمشدگی شہادت پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ”اٹھاؤ، مارواور پھینکو“کی بلوچ نسل کش پالیسی کا پہلا کھلا مظاہرہ تھا، اس کے بعد بی این ایم اور بی ایس او آزاد سمیت بلوچ آزادی پسند نوجوانوں وسیاسی کارکنوں کی اغواٗ نما گرفتاریوں اور ریاستی حراست میں انہیں ناقابل بیان درندگی آمیز تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کرنے اوران کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کا انسانیت سوز لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو ہنوز جاری ہے، اس عرصہ میں بی این ایم کی مرکزی قیادت کی بھاری اکثریت کو فورسز اور خفیہ اداروں نے چن چن کر شہید کر دیا، یہ تمام شہادتیں خفیہ ریاستی حراست میں ہوئیں، جس کے باعث بی این ایم کی قیادت کو روپوش بھی ہونا پڑا اور انہیں اپنی سرگرمیاں زیر زمین جاری رکھنی پڑیں، اس نازک اور کڑے امتحان کی گھڑی میں شہید رزاق بلوچ انتہائی جرات مندی اور بہادری کے ساتھ بلا خوف سر گرم رہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ قابض فورسز و خفیہ ادارے ان کی جان کے در پے ہیں آپ جنون کی حد تک اپنی قومی سیاسی و صحافتی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مگن رہے، آپ کے اس جنون اور نمایاں سرگرمیوں کے باعث بعض دوستوں و بہی خواہوں کی طرف سے آپ کو احتیاط برتنے و سرگرمیوں کو محدود کرنے اور کراچی سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کا بھی کہا جاتا رہا، مگر آپ کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ پاکستانی قابض قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ بلوچ سیاسی قوتیں محدود اور غیر فعال ہو جائیں اور تحریک مزید و سعت اور شدت اختیار نہ کرے، لہٰذا میں انہیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل نہیں کرنے دوں گا،
شہید رزاق بلوچ کا انتہائی سرگرم فکر وعمل آخر کار پاکستانی قابض قوتوں کیلئے نا قابل برداشت ہو گیا، اور انہوں نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے24مارچ2013ء کو آپ کو کراچی سے اغوانما گرفتار کر کے لا پتہ کر دیا اور تقریبا6 ماہ تک خفیہ ریاستی حراست میں درندہ صفت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا، حیوانیت ودرندگی کے تمام گھناؤنے حربے آزما کر آپ کے جسم کو ناقابل شناخت بنا دیا گیا اور شہید کر کے مسخ شدہ لاش کراچی کے مضافاتی ویران علاقے میں پھینک دی گئی، آپ کی شہادت کی خبر سے جہاں آپ کے والدین اور اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی وہاں آپ کے نظریاتی وسیاسی ساتھیوں، اور حلقہ احباب کو بھی شدید ذہنی ودلی صدمہ پہنچا، جبکہ کراچی سمیت بلوچستان و دنیا بھر کے بلوچوں میں شدید غم وغصہ اور اشتعال پھیل گیا، کراچی سمیت بلوچستان بھر میں احتجاج وہڑتال ہوئی، اس دوران کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو گئیں اور بلوچ قوم نے اپنے اس عظیم فرزند کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
اپنے انقلابی قومی فکرو عمل اور شہادت سے کا مریڈ رزاق بلوچ تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے ہیں، آپ کی شہادت نے بلوچ قومی تحریک آجوئی کو اقوام عالم میں مزید پزیرائی واحترام بخشاہے، اور پاکستانی قابض قوتوں کی درندگی دنیاکے سامنے مزید بے نقاب ہوئی ہے، آپکی شہادت کا تاریخی سبق یہی ہیکہ بلوچ قوم آزادی حاصل کئے بغیر قابض قوتوں کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر مرنے کے مسلسل عذاب ناک اور ذلت آمیز عمل سے نجات حاصل نہیں کر سکتی۔