خواتین کا عالمی دن: بی ایس او کا جبری لاپتہ بلوچ خواتین کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بلوچ خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں تنظیم نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین نے ہمیشہ تعلیم، سیاست، سماجی شعور اور قومی بیداری کے میدان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی بلوچ خواتین اپنے حقوق، انصاف اور وقار کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت درجنوں بلوچ خواتین کو ماورائے قانون لاپتہ کیا گیا ہے، جبکہ کئی سیاسی و سماجی کارکن خواتین کو جھوٹے مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ اور دیگر خواتین کارکنوں کے خلاف کارروائیاں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ خواتین کے ساتھ اس طرح کا رویہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایس او پجار سمجھتی ہے کہ خواتین معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بلوچ خواتین کی کامیابیاں قابلِ فخر ہیں، جبکہ سیاست اور سماجی سرگرمیوں میں ان کی شرکت معاشرے کو ایک مثبت سمت دیتی ہے۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور سیاسی عمل میں برابر کے مواقع فراہم کرنا ایک ترقی یافتہ اور انصاف پر مبنی معاشرے کی بنیاد ہے۔

تنظیم مطالبہ کیا کہ لاپتہ بلوچ خواتین کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، سیاسی کارکن خواتین کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور انہیں آئینی و قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بی ایس او پجار اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ خواتین کے حقوق، تعلیم اور سیاسی آزادی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جہاں خواتین کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔

Share This Article