بلوچستان میں مادری زبان کا عالمی دن منایا گیا، مختلف شہروں میں تقریبات منعقد کیئے، بساک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 21 فروری کو “مادری زبان کا عالمی دن” منایا گیا۔ اس سلسلے میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) کی جانب سے صوبے کے مختلف زونز میں تقریبات اور علمی نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔

واضح رہے کہ ہر سال 21 فروری کو دنیا بھر میں “مادری زبان کا عالمی دن” منایا جاتا ہے، جس کا اعلان یونیسکو نے بنگالی زبان کی تحریک کے اعتراف میں کیا تھا۔ بساک نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس عالمی اعلامیے کی پیروی کرتے ہوئے ہر سال اس دن کو مختلف علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے مناتی ہے۔

تنظیم کے مطابق اس سال بھی شال (کوئٹہ) میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں ڈیبیٹ، تقاریر، شاعری، مقالہ خوانی اور ڈاکیومنٹری سیشنز شامل تھے۔ اسی طرح تربت زون کی جانب سے تربت، ضلع کیچ میں تقاریر، ٹیبلو، شاعری اور مقالہ خوانی پر مشتمل تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

بساک خضدار زون نے “مادری زبان کا عالمی دن” کے عنوان سے دو حصوں پر مشتمل ڈیبیٹ کا اہتمام کیا، جس میں تاریخی پس منظر اور مادری زبانوں کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر تنظیم کے چیئرمین عزیر بلوچ نے بطور مقرر شرکت کی۔ نصیر آباد زون میں اسٹڈی سرکل منعقد کیا گیا جہاں مرکزی کمیٹی کے اراکین جعفر بلوچ اور علی بلوچ نے خطاب کیا۔

تنظیم کے مطابق قلات، تونسہ، خاران اور ڈی جی خان سمیت دیگر زونز میں بھی ادبی نشستیں اور مباحثے منعقد کیے گئے۔ کراچی زون نے اس دن کی تقریب کو نئے طلبہ کے لیے منعقدہ ویلکم پارٹی کے ساتھ منایا، جہاں زبان کے موضوع پر مقالے اور مباحثہ پیش کیا گیا۔ پنجگور اور ٹنڈو جام میں بھی ڈیبیٹ، تقاریر اور شاعری کے پروگرام منعقد کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل میں بھی اس حوالے سے ایک پروگرام منعقد ہونا تھا، تاہم انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تنظیم کے مطابق منتظمین کو مبینہ طور پر معطلی اور داخلہ منسوخی کی دھمکیاں دی گئیں۔

تاہم بساک کے مرکزی ترجمان کے مطابق صوبے کے مختلف مقامات پر تقریبات کامیابی کے ساتھ منعقد کی گئیں اور مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

Share This Article