بلوچ وومن فورم نے بلوچستان میں جاری اجتماعی سزا، جبری گمشدگیوں اور خواتین سمیت شہریوں کی غیر قانونی حراستوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں نہ صرف قانون کی پامالی ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ نوآبادیاتی طرزِ عمل کا تسلسل بھی ظاہر کرتی ہیں۔
فورم کے مطابق 18 فروری کو خضدار کے گازگی علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر حیات بی بی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ حیات بی بی کا تعلق مشکے کے نوکجو علاقے سے ہے۔ یہ رواں سال خواتین کی جبری گمشدگی کا دوسرا واقعہ ہے، جبکہ ریکارڈ کے مطابق لاپتہ خواتین کی تعداد سات تک پہنچ چکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حیات بی بی کا خاندان پہلے ہی اجتماعی سزا کا شکار ہے۔ ان کے شوہر اور دو بیٹوں کو مختلف اوقات میں گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا، جبکہ خاندان کے آٹھ دیگر افراد بھی اسی انجام سے دوچار ہو چکے ہیں، جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔
بلوچ وومن فورم نے کراچی سے بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ بیان کے مطابق گزشتہ سال 17 جولائی کو کراچی یونیورسٹی کے گریجویٹ زاہد بلوچ کو لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں کئی ماہ گزرنے کے باوجود منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔
اسی طرح 16 فروری کو کراچی سے تین بلوچ طلبہ کو حراست میں لیا گیا، جن میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) کے گریجویٹ دانیال ناصر بھی شامل ہیں۔ ان کے ساتھی محمد اقبال اور ارشاد علی کو رہا کر دیا گیا، تاہم دانیال ناصر اب تک غیر قانونی حراست میں ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 2 فروری کو حب چوکی میں سیکیورٹی فورسز نے چھاپوں کے دوران تین بزرگ افراد — سابق ڈپٹی کمشنر محمد بخش ساجدی، ان کے بھائی نعیم ساجدی اور انجینئر رفیق بلوچ — کو بھی حراست میں لیا، جو پاکستان کے قانونی دائرے سے باہر اقدام ہے۔
بلوچ وومن فورم نے کہا کہ یہ گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں برطانوی دور کے نوآبادیاتی قوانین کی یاد دلاتی ہیں، جو بلوچستان کے ساتھ ریاستی رویے کو مزید جابرانہ بناتی ہیں۔
بلوچ وومن فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں نوآبادیاتی طرز کی پالیسیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو فی الفور رہا کیا جائے۔ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ کیونکہ غیر قانونی حراستیں اور جبری گمشدگیاں بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا حل نہیں ہیں۔