بارکھان و خضدارمیں تعمیراتی کمپنیوں پر حملے ، 14 افراد اغوا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار اور بارکھان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 14 افراد کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔

پولیس کے مطابق ہفتے کی شام خضدار سے تقریبا 50کلومیٹر دور مولہ کے علاقے میں زیرِ تعمیر واٹر چینل منصوبے پر کام کرنے والی ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دھاوا بولا ۔ جہاں کام کرنے والے 11 افراد کو اغوا کرلیا۔

اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ منیجر گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی، مولانا بخش، محمد عرفان اور اختیار شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق مغویوں کا تعلق سندھ اور ضلع خضدار سے ہے۔

خضدار پولیس کے اہلکار یوسف بلوچ کے مطابق واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے، تاہم تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ اغوا ہونے والے مزدوروں میں چھ کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ ورلڈ بینک کے ایک منصوبے کے تحت نالیوں کو پختہ کرنے کے کام میں مصروف تھے۔

دوسری جانب بارکھان کے علاقے ڈھولا ندی کے قریب سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کریش پلانٹ پر بھی مسلح افراد نے سنیچر کو حملہ کیا۔

مولہ پولیس تھانے کے ایک اہلکار نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اتوار کی صبح درجنوں مسلح افراد مولہ شہر میں داخل ہوئے اور پولیس تھانہ، ہسپتال اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

پولیس کے مطابق 20سے زائد مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور تین افراد کو اغوا کرکے قریبی پہاڑی کی طرف فرار ہو گئے۔

مغویوں کا تعلق بارکھان سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع موسی خیل سے بتایا جا رہا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے کرش پلانٹ سے کچھ فاصلے پر قائم پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا اور وہاں تعینات تین پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا۔

ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔

Share This Article