آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں اخبارات کم پڑھے جاتے ہیں۔
اے پی این ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام تک معلومات پہنچانے کا واحد مستند ذریعہ اخبارات ہی ہیں جو عوامی شعور کو اجاگر کرنے، تعمیری مکالمے کو فروغ دینے اور احتساب کو یقینی بنانے کا ایک قابل اعتماد ماخذ ہیں۔
ان کے مطابق آج جب دنیا بھر میں سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر جعلی خبروں اور غلط معلومات کے ذریعے گمراہ کن بیانیوں کی ترویج کی جارہی ہے، اخبارات ہی قابل اعتبار اور ذمہ دارانہ صحافت کے ذریعے عوام میں صحت مند جمہوری قدروں کے فروخ کے ضامن ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشتگردی اور پسماندگی کے شکار بلوچستان میں شدت پسند بیانیوں کے سدباب اور کٹھن حالات میں عوام کو باخبر رکھنے کا فریضہ انجام دینے والے اخبارات کی خدمات کا اعتراف کرنے کے بجائے ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش حیران کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ بلوچستان حکومت، بلوچستان میں اخبارات کی ترویج اور ترقی کیلئے مزید اقدامات کرے تاکہ بلوچستان کے عوام تک مستند اور درست معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
اے پی این ایس نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کیلئے نئی میڈیا پالیسی کی تشکیل میں اخباری مالکان، ایڈیٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو شریک کیا جائے۔