امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو اظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطی میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ غرب اردن کے مزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کر دے گا۔
اب تک اسرائیل اور خلیج کے عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں تھے۔
دونوں ملکوں میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کی وجہ سے غیر رسمی رابطے تھے۔
صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے جواب میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹویٹ کی ’تاریخی دن‘۔
امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ’یہ سفارتکاری اور خطے کی جیت ہے۔‘
انھوں نے کہا ’یہ عرب اسرائیلی تعلقات میں اہم پیش رفت ہے جس سے کشیدگی کم ہوگی اور مثبت تبدیلی آئے گی۔‘
یہ معاہدہ سنہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اس کا کسی عرب ملک سے تیسرا امن معاہدہ ہے۔ اس سے قبل اسرائیل 1979 میں مصر اور اردن کے ساتھ 1994 میں امن معاہدے کر چکا ہے۔
آنے والے دنوں میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے وفود کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گا جن میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست فضائی معاہدوں، سکیورٹی، مواصلات، ٹیکنالوجی، توانائی، صحت، ثقافت، ماحولیات اور ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفارت خانے کھولنے کے معاملات طے کیے جائیں گے۔
مشترکہ اعلان کے مطابق دونوں ملک امریکہ کی طرف سے ‘مشرق وسطیٰ کے لیے دفاعی ایجنڈے’ کو آگے بڑھانے میں بھی شامل ہوں گے۔
دونوں ملکوں کے رہنماو¿ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں ’خطے کو لاحق خطرات اور دیگر معاملات اور مواقعوں کے بارے میں ذہنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے رہنماو¿ں میں خطے میں سفارتی تعلقات، اقتصادی رشتوں اور سکیورٹی تعاون کے ذریعے استحکام پیدا کرنے کا عزم اور یقین مشترکہ ہے‘۔