بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنےا یک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے پنجگور کے علاقے وشبود میں ایک نوجوان گریجویٹ طالب علم اور دکاندار، زوہیب احمد ولد محمد اعظم، کو مبینہ طور پر ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر دیا۔
انہوں نے مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زوہیب احمد 13 جنوری کو میونسپل کمیٹی آفس وشبود میں انٹرویو کے لیے موجود تھے کہ اسی دوران ایک سفید ٹویوٹا کرولا میں سوار نقاب پوش مسلح افراد نے دفتر میں داخل ہو کر فائرنگ کی، جس سے گیٹ کیپر محمد عالم زخمی ہوا۔ مسلح افراد نے زوہیب کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
بیان میں گیا کہ اگلے روز، 14 جنوری 2026 کو زوہیب احمد کی لاش بونستان، پنجگور سے برآمد ہوئی۔ لاش پر گولیوں کے متعدد نشانات اور شدید تشدد کے واضح آثار موجود تھے، جس سے ان کی حراست کے دوران بدترین اذیت رسانی کی نشاندہی ہوتی ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ سخت سیکیورٹی کے باوجود ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ بلوچستان بھر میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ زوہیب احمد کا قتل اس جاری سلسلے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔