ہلاکتوں کی منصوبہ بندی ناقابل برداشت ہے، ایرانی صدر پزشکیان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو ’افراتفری‘ کی طرف دھکیلنا تھا۔

ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔‘

ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’کچھ لوگ جو ’عوام میں سے نہیں ہیں اور اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے‘ نے لوگوں کو رائفلوں اور مشین گنوں سے قتل کیا۔ انھوں نے کچھ کے سر قلم کیے، کچھ کو آگ لگا دی‘۔

ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ان ’فساد بپا‘ کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ ’آگے بڑھو، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔‘

مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محلوں میں جمع ہوں اور ’افراتفری‘ کو روکیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’ہدایت یافتہ‘ اور ’تربیت یافتہ‘ افراد عوام پر گولیاں چلا رہے ہیں اور گھروں و املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

نیشنل سکیورٹی فورسز کے سربراہ احمد رضا رادان اور میڈیکل سسٹم آرگنائزیشن کے سربراہ محمد رئیسہ نے اسی طرح کی زبان استعمال کرتے ہوئے آج ایرانی ٹیلی ویژن پر اس بیانیے کو دہرایا۔

دریں اثنا، ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش جاری ہے، اور معلومات کی ترسیل اور تصدیق کے امکانات کو کم سے کم کر دیا گیا ہے۔

جبکہ ناروے میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں کم از کم 190 افراد مارے گئے ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ ان ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔‘

Share This Article