ایرانی میڈیا کے مطابق ایک ایران نواز ہیکر نے ایسے 600 افراد کی شناخت کی ہے، جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ موساد کے ایجنٹ ہیں اور ایران میں احتجاج کو بھڑکانے میں ملوث ہیں۔
ایران میں اس وقت بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں، جو 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہو کر ملک بھر میں پھیل گئے تھے۔
ایران کا الزام ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ مسلح دہشت گرد گروپ تشدد کے پیچھے ہیں اور ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ٹیلیگرام چینل نے 10 جنوری کو رپورٹ کیا کہ ایران سے منسلک گروپ حنظلہ (ہنڈالہ) نے موساد کے 600 کارندوں کی شناخت ظاہر کرنے والی دستاویزات شائع کیں۔
رپورٹ کے ساتھ ایک پی ڈی ایف دستاویز بھی تھی جس میں ایران، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور اسرائیل سمیت کئی ممالک کے ناموں اور فون نمبروں کی فہرست موجود تھی۔ اس فہرست میں عبرانی میں لکھے گئے کچھ نام اور انگریزی میں لکھے گئے کئی ایرانی نام شامل تھے۔
حنظلہ (ہنڈالہ)، جو خود کو سائبر مزاحمتی گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے، نے 8 جنوری کو دعویٰ کیا کہ اس نے مظاہرین سے اسرائیلی موساد کے روابط کا پردہ فاش کیا ہے۔
گروپ نے کہا کہ اس نے مہرداد رحیمی نامی شخص کو ہیک کیا تھا، جسے موساد کا افسر بتایا جاتا ہے، اور احتجاج کے دوران اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی تھی۔