ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے چوتھے روز سے جاری ہیں جہاں متعدد افراد کوگرفتار کرنے کی اطلاعات ہیں ۔
تہران کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلبا بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
تہران میں مظاہروں سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں تہران کے شش سکوائر کے قریب صابونین سٹریٹ پر کم از کم 11 افراد کی گرفتاری کو دکھایا گیا ہے۔
تہران یونیورسٹی، شہید بہشتی، خواجہ نصیر، شریف اور علم و صنعت یونیورسٹی کے طلبا نے مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاجی مارچ اور اجتماعات کا انعقاد کیا۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران اور بہشتی یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طلبہ جمع ہوئے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرمانشاہ کے علاقے میں مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس فائر کیا۔
اس دوران مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف نعرے لگائے اور دوبارہ آنسو گیس استعمال کی گئی۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کی جمہوریہ سٹریٹ پر مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
گذشتہ دنوں ایران کے مختلف شہروں میں عوام اور تاجروں نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ اتوار کے روز ڈالر کی قیمت ایک موقع پر 144 ہزار تومان سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔
27 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجات گذشتہ روز بھی تہران، ملارد، قشم اور ہمدان میں دیکھے گئے۔ اسی دوران 29 دسمبر کو مزید مظاہروں اور ہڑتالوں کی کال بھی دی گئی۔
کرمانشاہ، شیراز اور تہران میں احتجاجی اجتماعات ہوئے، جبکہ تہران کی جامعات اور بازار سے بھی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب تہران کی خیام سٹریٹ سے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار موجود ہیں اور آنسو گیس فائر کی جا رہی ہے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق مظاہرین گلوبندگ چوک سے خیام سٹریٹ کی طرف آئے، جہاں اہلکاروں نے ان پر حملہ کیا۔ اس علاقے میں عام کپڑوں میں موجود افراد کی موجودگی کی بھی اطلاع ملی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق تہران میں مظاہرین کی تعداد گذشتہ دو دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور مزید علاقوں میں احتجاج پھیل گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق بعض بڑے سٹورز اور چھوٹے دکانداروں کے شیلفز پر خوردنی تیل یا تو بالکل خالی ہیں یا صرف چند غیر معروف برانڈز کی محدود مقدار رکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال صارفین کو مجبور کرتی ہے کہ یا تو وہ غیر پسندیدہ برانڈ خریدیں یا خریداری سے دستبردار ہو جائیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں انھیں کوئی کوٹہ فراہم نہیں کیا گیا اور تقسیم کار کمپنیوں نے سپلائی روک دی ہے یا کم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں قلت براہِ راست دکانوں کے شیلفز تک پہنچ گئی ہے۔
تہران کی بنی ہاشم سٹریٹ سے موصولہ ویڈیوز میں مظاہرین ’رضا شاہ، روحت شاد‘ کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب تاجروں اور دکانداروں کے احتجاج کے دوران تہران نے تاجروں کے لیے ٹیکسز میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیکس ادارے کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ تین اہم فیصلے سرانِ قوا کی منظوری سے نافذ کیے گئے ہیں تاکہ تاجروں کو ٹیکس میں رعایت دی جا سکے۔ ان اقدامات میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نوٹسز پر نظرِ ثانی، کارڈ مشین کی رسید کو بطور الیکٹرانک انوائس قبول کرنے کی مدت میں توسیع، اور ٹیکس جرمانوں کی معافی شامل ہے۔
اس فیصلے کے تحت الیکٹرانک انوائس جاری نہ کرنے پر 100 فیصد جرمانے کی معافی ایک سال کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مہنگائی کے خلاف احتجاج صرف تاجروں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہری بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔
تہران چیمبر آف کامرس کے سربراہ حمیدرضا رستگار نے کہا کہ ’زرِ مبادلہ کی اتار چڑھاؤ نے تمام کاروباروں پر سنگین اثرات ڈالے ہیں۔ امید ہے کہ ایک دن آئے گا جب ڈالر اور زرِ مبادلہ ہماری معیشت سے ختم ہو جائیں گے کیونکہ یہ ملک کے لیے آفت ہیں۔ اس بحران سے نکلنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ماہرین کو ذمہ داری دی جانی چاہیے۔‘
تاجروں اور دکانداروں کا احتجاج دو روز قبل شروع ہوا تھا، جب کئی دکانیں تہران اور دیگر شہروں میں بند کر دی گئیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بعد کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ فروخت کے بعد انھیں وہی سامان زیادہ قیمت پر دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔