بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی) کے مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو دہشتگردی کے الزام میں قائم مقدمے سے بری کردیا گیا۔
وکیل جبران ناصر کے مطابق ایٹک نمبر 5 کراچی نے ایف آئی آر نمبر 654/2024 تھانہ قائدآباد میں درج مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو تمام الزامات سے باعزت بری کیا۔
یہ مقدمہ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 اے (بغاوت)، 148 (ہنگامہ آرائی)، 149 (غیر قانونی اجتماع)، 153 اے (مذہبی یا گروہی منافرت)، 500 (توہینِ عوامی ملازمین) اور 505 (امن عامہ میں خلل ڈالنے کے بیانات) کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ مختلف کالعدم تنظیموں سے مبینہ طور پر منسلک ہیں، نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں اور ریاست کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہی ہیں۔ تاہم عدالت میں ان الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔
جبران ناصر نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست نے بلوچ آوازوں کو دبانے کے لیے بدنیتی پر مبنی حربے استعمال کیے۔ ان کے مطابق ایف آئی آر درج کرانے والا شخص خود اسی تھانے میں تین مقدمات میں نامزد تھا اور اسے محض آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بغیر ثبوت چالان جمع کرائے جبکہ استغاثہ کو بھی بے بنیاد کیس چلانے پر مجبور کیا گیا۔
وکیل نے مزید کہا کہ عدالتی نظام نے بھی 13 ماہ تک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ایک جھوٹے مقدمے میں الجھائے رکھا، حالانکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں یہ معاملہ پہلے ہی نمٹا سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ریاستی جبر کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف بلوچستان میں درج متعدد مقدمات، ان کی گرفتاریوں اور دہشتگردی کے قوانین کے تحت پابندیوں کے حوالے سے انسانی حقوق کے کارکنوں کے خدشات کی بھی تصدیق کرتا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ وہ بی وائی سی قیادت کی قانونی معاونت پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اپنے ساتھی وکلا رانا دانیال اکرم، جئی پال جئی اور لوک وکٹر پیٹرک کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے عدالتی کارروائیوں میں بھرپور مدد فراہم کی۔