پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کر دی گئی ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس جنگ بندی کا نفاذ آج شام چھ بجے سے ہو گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس دوران طالبان کی عبوری حکومت نے مذاکرات کی بھی درخواست کی ہے۔
پاکستان اور افغان حکومت نے اپنے مؤقف میں دوسرے فریق پر جنگ بندی کی درخواست کا ذمہ ڈالا ہے۔
پاکستان کا جہاں یہ مؤقف ہے کہ یہ جنگ بندی افغان طالبان کی درخواست پر عمل میں لائی جا رہی ہے وہیں افغان طالبان کے ترجمان نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ جنگ بندی پاکستان کی درخواست پر نفاذ کی جا رہی ہے۔
انھوں نے اپنی سکیورٹی فورسز سے یہ کہا ہے کہ جب تک دوسری طرف سے خلاف ورزی نہ ہو تو اس جنگ بندی پر عمل پیرا رہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے عسکری ذرائع کے حوالے سے یہ بتایا ہے کہ انھوں نے افغانستان کے اندر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
پی ٹی وی نے یہ خبر سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے نشر کی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’تمام اہداف کو باریک بینی سے منتخب کر کے کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے۔‘
پی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی جارحیت کا منھ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بدھ روز افغانستان کی سرحد پر ہونے والی جھڑپون کے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 15 اکتوبر کی علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے سپن بولدک میں چار مقامات پر حملہ کیا جسے پاکستانی فورسز نے ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ شہری آبادی کی حفاظت کی پرواہ کیے بغیر علاقے کے منقسم دیہاتوں کے درمیان کیا گیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرحد کے اندر واقع پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں 15-20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے صورتحال ابھی واضح نہیں جبکہ سرحد کے نزدیک شدت پسندوں اور افغان طالبان کے دوبارہ جمع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے سپن بولدک کے علاوہ 14 اور 15 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان اور دیگر شدت پسندوں نے خیبر پختونخواہ کے کرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا گیا اور جوابی کارروائی میں افغان پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر نے جوابی کارروائی چھ ٹینکوں سمیت آٹھ چوکیاں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں 25 سے 30 افغان طالبان اور شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کا بھی امکان ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ الزام کہ حملے کا آغاز پاکستان کی طرف سے کیا گیا اشتعال انگیزی اور کھلے جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔ پاکستانی فوج نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی پوسٹوں اور آلات پر قبضہ کرنے کے دعوؤں کی بھی تردید کی ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سپن بولدک میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں افغان فورسز کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔
افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں متعدد پاکستانی فوج ہلاک ہوئے، پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے آج صبح ایک بار پھر پاکستانی فورسز نے قندھار کے اسپین بولدک ضلع میں افغانستان پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں 12 سے زائد عام شہری ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
افغان حکومتی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی جارحیت کے بعد افغان فورسز کو جوابی کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی میں متعدد پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے، ان کی چوکیاں اور مراکز افغان فورسز نے قبضے میں لے لیے، جبکہ اسلحہ اور ٹینک بھی افغان فورسز کے ہاتھ لگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کی بیشتر تنصیبات تباہ کر دی گئیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مجاہدین بلند حوصلے کے ساتھ اپنے وطن، سرزمین اور عوام کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
افغان اور پاکستانی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ گذشتہ کئی دنوں سے جاری ہے، جہاں مختلف علاقوں میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر چھوٹے اور بڑے حملوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔