امریکہ نے چھٹی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی نائب مندوب مورگن اورتگس نے کہا کہ قرارداد کا متن حماس کی مذمت یا اپنے دفاع کے اسرائیل کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
سلامتی کونسل کے تمام 14 دیگر اراکین نے قرارداد کے مسودے کے حق میں ووٹ دیا، جس میں غزہ کی انسانی صورتحال کو ’تباہ کن‘ قرار دیا گیا اور اسرائیل سے تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر میں شہریوں کے لیے آخری لائف لائنز متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائی کو بڑھا رہا ہے۔
عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی اس معاملے میں الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے اورتگس نے کہا کہ قرارداد کے خلاف واشنگٹن کی مخالفت ’کوئی تعجب کی بات نہیں‘ ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ قرارداد حماس کی مذمت کرنے یا اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرنے میں ناکام ہے، اور یہ حماس کو فائدہ پہنچانے والے جھوٹے بیانیے کو غلط طور پر جائز قرار دیتی ہے۔‘
ووٹنگ کے بعد، اقوام متحدہ کے ارکان نے اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے لیے فوری ردعمل کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے امریکہ کے فیصلے کو ’انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے سلامتی کونسل کو ’ان مظالم کے خلاف اپنا صحیح کردار ادا کرنے‘ سے روک دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم احمد نے ویٹو کو سلامتی کونسل کے لیے ’سیاہ لمحہ‘ قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ غزہ کے بچوں کی فریاد سے دنیا والوں کے دل پگھل جانے چاہییں۔