جبری لاپتہ زاہد بلوچ و دیگر کی بازیابی کیلئے کراچی میں احتجاجی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کراچی میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ بدستور جاری ہے اور بدھ کے روز یہ اپنے 38ویں دن میں داخل ہوگیا۔

احتجاجی کیمپ کراچی پریس کلب کے باہر لگایا گیا ہے جہاں لاپتہ نوجوانوں کے والدین اور اہل خانہ انصاف کے حصول اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبے پر مسلسل بیٹھے ہیں۔

لاپتہ نوجوان زاہد علی بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو کسی جرم کے بغیر گن پوائنٹ پر اغوا کیا گیا ہے۔ اگر زاہد پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور شفاف عدالتی کارروائی کی جائے، لیکن خفیہ اور ماورائے آئین طریقے کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زاہد ایک بے قصور نوجوان ہے جو پورے گھر کی کفالت کر رہا تھا، مگر ریاستی اداروں نے انہیں لاپتہ کرکے خاندان کو شدید اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔

عبدالحمید بلوچ کا کہنا تھا کہ ریاست کا فرض شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے لیکن یہاں الٹا شہریوں کو اغوا اور جبری گمشدہ کیا جارہا ہے، جو قانون اور آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر میرے بیٹے کو صرف "بلوچ” شناخت کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے تو یہ قانون کا دوہرا معیار ہے، جو ملک میں انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے درجنوں بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے کے رہائشی نوجوان شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ یہ تمام نوجوان متوسط اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کی گمشدگی نے اہل خانہ کو شدید ذہنی اور جسمانی کرب میں مبتلا کردیا ہے۔

کارکنوں کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئین میں دیے گئے بنیادی شہری حقوق کی بھی نفی ہے۔ مظاہرین نے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

Share This Article