پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں بلوچ احتجاجی کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں، احتجاج کی آڑ میں سیاسی مقاصد حاصل کرنا اس پر حکومت کوئی نرمی اختیار نہیں کرے گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، اس وجہ سے پولی کلینک سے پریس کلب تک ایک سائیڈ پر سڑک کو بند کیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ پاکستان کے سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ بلوچ اسیران لواحقین اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے کھلے ایریا میں اپنا کیمپ لگاکر احتجاج کرنا چاہتے تھے لیکن مقامی انتظامیہ نے انہیں پریس کلب کے سامنے کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی اورخود روڈ بلاک کرکے انہیں وہا ں بٹھادیا تاکہ رائے عامہ کو بلوچ لواحقین کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔
دوسری جانب بلوچ اسیران لواحقین کئی بار اپنی پریس کانفرنسز اور میڈیا کے ساتھ ہونے والے بیانات و انٹرویوز میں بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ایک مہینے سے زائد جاری اس دھرنے کے شرکا سے حکومت کی جانب سے کوئی بات چیت کے لئے نہیں آیا۔ جبکہ میڈیا میں یہ بھی رپورٹ ہوچکی ہے کہ اسمبلی ممبران کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب ممانعت کی گئی ہے کہ وہ بلوچ دھرنا مظاہرین سے کسی قسم کی ملاقات اور بات چیت نہ کریں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں، مختلف طریقوں اور انسانی حقوق کے رہنمائوں کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ سیٹل نہ ہونے کی بڑی وجہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات ہیں، ان کے ایسے مطالبات ہیں جن کو حکومت پورا نہیں کرسکتی، کچھ معاملات عدالتوں میں بھی ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن اس پر کام کر رہا ہے، ہم بھی لاپتا افراد سے متعلق بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔