پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں آج بروزہفتہ ا کو نیشنل پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے پُرامن احتجاج انتالیسواں دن جاری رہی ۔
ان انتالیس دنوں میں مائیں، بہنیں، بزرگ اور بچے سخت موسم، بارش اور ریاستی سرد مہری کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کا پُرامن مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ احتجاج صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان پر بیتنے والے ظلم و جبر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر آج ان کی آواز کو دبایا گیا تو کل عوام کا پورے ریاستی نظام سے مایوس و لاتعلق ہونا بعید از قیاس نہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ہم تمام شہریوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور سیاسی آوازوں کو دبانے کے خلاف اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر اسیر رہنماؤں کو فوراً رہا کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ اہلِ بلوچستان کو جینے کا بنیادی حق مل سکے۔