پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور جبری طور پر لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا احتجاجی دھرنا 38ویں روز بھی جاری ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے بدستور پرامن احتجاج پر بیٹھے ہیں۔
مظاہرین شدید گرمی، کڑی نگرانی اور حکومتی دباؤ کے باوجود خواتین، بزرگ اور بچے احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں۔
ان کے مطابق ایک مہینے سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود انہیں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، اور حکام کی جانب سے ان کی شکایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین کے مطابق ان کا دھرنا صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کے اُن تمام خاندانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو جبری گمشدگی کے مسئلے سے متاثر ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اہلخانہ کے صبر و استقامت نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ انصاف کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر اس دھرنے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔