بلوچستان کے علاقے پنجگور اور کوئٹہ سے 2 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
ضلع پنجگور کے علاقے پرانا پروم کراس سے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمد ہوئی ہے، جس کی شناخت عمر ولد بدل، ساکن گوارگو کے نام سے ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کے جسم پر گولیوں کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
لاش کو ضروری کارروائی کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
لیویز حکام نے مزید بتایا کہ عمر کے لواحقین کے مطابق اسے 31 جولائی 2025 کو گوارگو سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پنجگور سے گذشتہ تین روز کے دوران 3 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
گذشتہ روز چار اگست کو پنجگور میں نوجوان شاہ جان ولد مراد کی مسخ شدہ لاش آج برآمد ہوئی تھی۔ شاہ جان کو رواں سال 29 جولائی کو، ان کے شادی کے صرف دسویں دن بعد، ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں کے مطابق اسے ایف سی کیمپ پنجگور منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے اس کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ پھر اس کی لاش مسخ شدہ حالت میں برآمد ہوئی۔
اس کے علاوہ تین اگست کو پنجگور کے علاقے پروم سے ایک پرانی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت عنایت اللہ ولد خیر محمد کے طور پر کی گئی۔ عنایت اللہ کو گزشتہ سال دسمبر کے اوائل میں گاڑی سواروں نے اغواء کیا تھا، اہل خانہ کے مطابق “ڈیتھ اسکواڈ” کے اہلکاروں نے ان کے گھر سے اغواء کیا تھا۔
دریں اثنا کوئٹہ کینٹ سےچندروز پہلے لاپتہ ہونے والے بچے کی لاش نالے سے برآمد ہوئی ہے۔
ظفر کالونی کوئٹہ کینٹ سے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے سات سالہ بچے کی لاش نالے سے برآمد ہو گئی۔
متوفی کی شناخت سبحان احمد ولد فہیم اقبال کے نام سے ہوئی ہے جو چند روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا۔
بچے کی لاش پولیس ریکروٹمنٹ سینٹر سے ملحقہ نالے سے برآمد کی گئی۔
ذرائع کے مطابق قتل کے شبے میں ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دوسرے اہلکار کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو نالے سے نکال کر ضروری قانونی کارروائی کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کی تفتیش جاری ہے اور پولیس مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے۔