بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے )کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پانچ حملوں میں پاکستانی فوج، رسد اور معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے زامران، ڈھاڈر اور مستونگ میں پانچ مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج، اس کی رسد اور معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ روز زامران کے علاقے جابشان میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ اپنے پوسٹ کیلئے پانی لے جارہے تھے۔ دھماکے کی زد میں آکر قابض فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔
بیان میں کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے جمعہ کی شب ڈھاڈر کے علاقے سنی شوران میں قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کے دروازے پر تعینات اہلکاروں کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب قابض فوج کے چار اہلکار گیٹ پر موجود تھے۔ حملے کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ حملے کے بعد حواس باختہ قابض فوج نے آبادیوں پر متعدد مارٹر گولے فائر کیئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ہفتے کے روز مستونگ میں غلام پڑنز کے مقام پر بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار میں شریک دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے ڈرائیوروں کو تنبیہ کے بعد رہا کردیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ روز مستونگ کے علاقے اسپلنجی، مَرو میں قابض پاکستانی فوج کیلئے راشن لے جانے والی دو ٹرک گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے آج تگران کے علاقے عبدوئی میں قابض فوج کیلئے سامان لے جانے والی ایک ٹرک گاڑی کو نذر آتش کرکے تباہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام ٹرانسپورٹرز پر واضح کرتی ہے جو قابض فوج کیلئے رسد پہنچانے یا معدنیات لیجانے میں ملوث ہیں، اپنے اس عمل کو ترک کردیں۔ بصورت دیگر انہیں بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جو آج قابض فوج کی رسد کو ہوا۔