لفظ ترجمان ایک ایسی اصطلاح ہے جو کسی بھی سیاسی،سوشل،سماجی ادارے،حکومت وغیرہ کی نمائندگی کرکے اس کے مقصد،پالیسی،احساسات جذبات،ارادے نیک یا برے،امن یا جنگ، وغیرہ کا پیغام قاصد بن کر دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچانے کا کردار خوش اصلوبی سے سرانجام دے رہاہوتاہے۔اکثر اس اصطلاح کے ساتھ فرضی یا حقیقی نام اور افراد چمٹا ئے جاتے ہیں،مگر اکثر یہ اصطلاح خود مستقل مزاجی سے اپنے ذمہداریاں پہنچانے میں مگن رہتاہے۔اگر ہم اس اصلاح کو آسانی سے سمجھنے یا اسکی تعریف (جوکہ میرے جیسے کم علم طالب علم کیلے ناممکن ہے)کرتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ انسانی جسم کے ساتھ روح یا سانس کے مانند ہے۔اگر جسم اسکا ساتھ نہ دے تو وہ پرواز کر کے پھر کسی جسم میں گھس کر اسے زندہ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔نیا جسم نئے نام سے جنم لے کر اپنا وجود کچھ پیریڈ کیلئے زندہ رکھ سکتاہے مگر دیر پا نہیں سانس زندہ رہ کر، اسے چھوڑ کر پھر کسی جاندار کے وجود کا موجب بنتا رہتاہے،اسی مثال کو ہم اگر کسی پارٹی کو”جسم“اور”ترجمان“ کو سانس یا روح کا نام دیکر کچھ لمحہ کیلئے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارا عنوان ہے۔تو یقیناََ ہمیں ’لفظ ’ترجمان“ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ہمارے اکثر سیاسی دوست جن سے اس اصطلاح بارے بات ہوتی ہے تو انکا مدعا یہی ہوتاہے کہ جو کسی سیاسی تنظیم کے مرکزی کابینہ کا انفارمیشن یا اطلاعاتی سیکٹری ہوگا،وہی پارٹی کامرکزی ترجمان ہی ہے۔اس سے آگے پیچھے اس اصطلاح کی حیثت نہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ انکے خیال میں اطلاعات کی سیکٹری ہی اس اصطلاح کے حقدار ہیں اس کے علاوہ کسی کو ہمت نہیں کہ اس اصطلاح کو بری آنکھ اٹھاکر دیکھے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے،جس طرح پہلے عرض کیا تھا کہ یہ لفظ جب خود سانس ہے تو وہ ہر ایک جسم کا حصہ بن
سکتاہے جو زندہ ہونے کے قابل ہے،یہاں زندہ جسم کا معنی عالم اور دانشور یا پارٹی کے پالیسیز سے جان کاری ہے۔پارٹی کے اندر چاہئے سیکٹری اطلاعات ہوں یا چیئرمین،صدر سیکٹری جنرل،عام کارکن یا کوئی دوست جن کے ساتھ آپ کے تنظیمی تعلقات ہوں اور وہ اس مدعے پر علم رکھتاہو وہ اپنے نام کو پردے میں رکھ کر ترجمانی کرسکتاہے۔یعنی اس بارے معلومات اکھٹے کرکے،چاہئے آپ کی تنظیم کسی قومی مدعے پر اپنا بیان جاری کرنا چاہئے وہی شخص قلمبند کرکے،اپنے نام کو سیغہ راز میں رکھکر محض”ترجمان“ کا اصلاح لکھ کر جاری کرسکتاہے۔جس میں کوئی قید نہیں،اگر پارٹی مناسب سمجھے (حالانکہ ضروری نہیں)تو ایک مخصوص نام چن کر اسے دے سکتاہے جیسے کہ ہمارے بلوچ آزادی پسند تنظیمیں ہیں کسی کا ترجمان،گہرام بلوچ ہے تو کوئی آزاد، یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گہرام اور آزاد لفظ ترجمان کے کمک کار یا اسسٹنٹ ہیں یا اسکے ساتھ کسی خاص وقت کیلئے قید یا گروی رکھے گئے ہیں۔مطلب انکی حیثیت اس کلہاڑے کی ہے جب تک لکڑی یا لوہا اس میں ڈنڈے کی شکل میں، بنواکر، نہ گھسیڑ دیں وہ لکڑی یا،ہڈی اور چیز کاٹنے کی قابل نہیں ہوتا۔ٹھیک اسی طرح ترجمان ڈنڈابن کر انھیں پہچان دے دیتاہے نہ کہ وہ ترجمان کو پہچان دیں،یعنی لفظ”ترجمان“ کسی فرد یا نام کا محتاج نہیں بلکہ نام اور فرد اسکے محتاج ہیں۔اگر ہم نام نہاد تنظیم کے ترجمان آزاد کے مثال کو مذید سرجری کرکے اس کی حیثیت دیکھ لیتے ہیں تو پتا چلتاہے جو بندہ دس سال قبل”آزاد“ نام کو بطور عرف نام تنظیم کا ترجمان بن کر استعمال کر رہے تھے،وہ اب اس دشمن کے گود میں جاکر بیٹھ چکے ہیں اور توبہ کرلی ہے کہ نام نہاد تنظیمی قائد نے”آزاد“ کو میرے نام کے ساتھ جوڑ کر مجھ سے ترجمان کے کام لئے رہے تھے۔،اب میں آزان دیکر توبہ کرتاہوں کہ میں آئندہ ترجمان بن کر اس اصطلاح کا استعمال کروں گا نہ عرف آزاد کا۔،اس واقع بعد ہونا یہ چاہئے تھا کہ آزاد بطور ترجمان کے نمائندے ختم ہوجاتے۔ لیکن وہ اب بھی ترجمان کے ساتھ نتھی ہے،چاہے جب بھی الٹا سلٹا بیان داغا جائے لندن سے یا کہیں سے بھی آزاد ترجمان کے پیٹھ پر سوار ہوکر محو پرواز رہ کر گند مچاتاہے۔کیوں؟ وہ اس لئے کہ وہ ترجمان کے کمک کار یا اسسٹنٹ ہیں،یا وہی ترجمان ہے جو بھیس بدل کر کبھی آزاد کے نام پر تو کبھی اور نام پر پرواز کرتارہتاہے۔اگر آزاد کو اس سے نہ جوڑیں تو بھی ترجمان قومی معملات میں صدابہار ہے اور وہ اپنے پاؤوں پر خود کھڑاہونے کے لائق ہے،اور اپنے جسم پارٹی کے ساتھ جڑاہواہے۔اگر یہی پارٹی ختم ہوبھی جائے تو ”ترجمان“ پھر نئی پارٹی کے ساتھ جڑجاتاہے یا جوڑاجاتاہے۔اس لئے ہمارے سیاسی ذمہداران یا کارکنوں کو اس نازک اصطلاح کی حیثت جان کر اپنے پارٹیوں کے قومی پالیسی اور پارٹی بیانات جاری کرنا چاہئے۔اگر پارٹی پالیسی یا بیان جوکہ قومی ہے سے ترجمان کے بجائے کسی نام کو صرف نتھی کیا گیا تو وہ بیان پارٹی کی نہیں بلکہ اس پارٹی کے رہنما یا کارکن کا سمجھا جائے گا،اسکی حیثیت وہ نہیں رہے گی جو ترجمان لفظ کا ہوگا۔کہتے ہیں کہ دریا کو کوزے میں بند کرنا”ترجمان“ آپ کے پارٹی اور تنظیم کے پالیسیز کو آئینہ بن کر عوام کے سامنے رکھنے کا ضامن بن جاتاہے۔کیوں کہ اسکو سانس کی حیثت حاصل ہے یعنی وہ میٹر ہے جسے موت نہیں آتی۔ نتیجہ ہر وہ لیڈر،ورکر،کارکن،عام ہمدرد دوستخواہ جو آپ کے تنظیمی پارٹی پالیسی کو عوام کے سامنے بیان کرے وہ ترجمان ہی کہلانے کے مستحق ہوگا۔مثلاََ۔بی این ایم،بی ایس او آزاد،وغیرہ کے مرکزی ترجمان،صوبائی ترجمان،ضلعی ترجمان،تحصیل کے ترجمان،ہر ایک اپنے اپنے حدود کے علاوہ بیرونی دنیا میں پارٹی قومی پیغام اور پالیسیز کو خوش اسلوبی سے اپنے کارکنان کے علاوہ عام عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔جو آپ نے مرکز یا دوسرے علاقائی جگہوں میں کابینہ
منتخب کرکے اطلاعات کی سیکٹریز منتخب کئے ہیں، وہ جب اپنے نام کیساتھ ترجمان بن کوئی پیغام اطلاع پہنچائیں گے تو ان کا دائرہ کار محض تنظیم تک محدود ہوگا۔جو تنظیم کے اندرونی معملات بارے نئے چینجز یا کسی معملے وغیرہ پر آگاہی مقصد ہوگا۔جب انھیں قومی بیان دینا ہوگا تو وہ اپنا نام کاٹ کرپارٹی کا نام لکھ کر ترجمان کے اصطلاح کے ساتھ جاری کریں گے۔جیساکہ، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے مرکزی ترجمان نے اپنی جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ شہدائے بلوچستان کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ شہدائے بلوچستان نے بلوچ قومی تحریک کو زندہ رکھتے ہوئے خود کو بلوچستان کیلئے قربان کردیا اور دنیا کو یہ دکھادیا کہ بلوچ اپنے قول واقرار کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر انھیں اپنے پارٹی امور کے بارے بیان دینا ہوگا تو وہ صرف پارٹی سے وابستہ افراد کو مخاطب ہوکر لکھیں گے،بی این ڈی پی کے مرکزی ترجمان۔فلان۔۔نے اپنے جاری کردہ بیان میں ورکروں یا کابینہ کا اجلاس وغیرہ بلایاہے۔