بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالگتر میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کے لئے سی پیک منصوبے کی اہم شاہراہ ایم-8 پر احتجاجاًدھرنا دیکر اسے طرح کی آمدو رفت کے لئے بند کردیاہے۔
شاہراہ کی بندش سے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔
دھرنے میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
دھرنا مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے لاپتہ پیاروں کو بازیاب نہیں کرایا جاتا، دھرنا جاری رہے گا اور شاہراہ نہیں کھولی جائے گی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار انتظامیہ سے اپیل کر چکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اس لیے انہیں مجبوراً سڑک پر آنا پڑا۔
دھرنے کے باعث دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور عید کی چھٹیوں پر اپنے گھروں کو جانے والے طلبہ و طالبات شامل ہیں۔ تربت، گوادر، پنجگور، اور کوئٹہ کے درمیان زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔