وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری ، لاپتہ غنی بلوچ اور ایمل کے لواحقین کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ آج جمعہ کے روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5844 واں روز بھی جاری رہا، جبری لاپتہ عبدالغنی بلوچ اور ایمل بلوچ کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

عبدالغنی بلوچ کے ہمشیرہ نے کہا کہ عبدالغنی ایک ایم فل اسکالر، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی ( این ڈی پی ) کےرہنماء اور ایک پرامن سیاسی ورکر ہیں۔ وہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو کوئٹہ سے کراچی کی طرف سفر کر رہے تھے انہیں خضدار کے مقام پر فورسز نے مسافروں کے سامنے سے حراست میں لینے بعد جبری لاپتہ کردیا، خاندان کو ان کی گرفتاری کی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی اور نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے گرفتاری کے بعد وہ کس کی تحویل میں ہیں۔

عبدالغنی بلوچ کی ہمشیرہ نے تنظیم سے یہ بھی شکایت کی کہ وہ بھائی کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے خضدار گئیں اور متعلقہ تھانہ سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے رابطہ کیا لیکن ایس ایچ او نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا اس کے بعد ایس پی خضدار کو درخواست دی لیکن ایف آئی آر درج نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کے خاندان شدید ذینی اذیت میں مبتلا ہے

جبری لاپتہ ایمل بلوچ کے اہلخانہ وی بی ایم پی کیمپ میں شریک ہیں۔

وی بی ایم پی کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 22 اور 23 مئی کی درمیانی شب کوئٹہ کے ریڈ زون سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے کمسن طالب علم ایمل کے کیس کو تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئے کمیش اور بلوچستان حکومت کو فراہم کر دیئے گئے ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے عبدالغنی بلوچ اور ایمل بلوچ کی ماورائے قانون گرفتاری کے بعد ان کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر عبدالغنی بلوچ اور ایمل پر الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لایا جائے اور انہیں قوانین کے تحت اپنے صفائی پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اور وہ بےقصور ہے تو انہیں رہا کرکے خاندان کو ذہنی اذیت سے نجات دلایا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article