کولمبیا : بچی کیساتھ اجتماعی زیادتی پر ملکی فوج کیخلاف عوام میں سخت غم و غصہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

کولمبیا میں کچھ فوجیوں کی طرف سے ایک مقامی لڑکی کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی وجہ سے ملک ایک دھچکے کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ تاہم یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

کولمبیا کے مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ماضی میں بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ لیکن ملکی فوج کے کچھ ممبران کی طرف سے ایک نو عمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے پر ردعمل کافی شدید دیکھا جا رہا ہے۔

مقامی قبیلے ایمبیرا چامی گروپ کے سربراہ جانی اونگاما کیوراگاما نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ”اس لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے سکیورٹی فورسز نے نہ صرف ہماری بہن بلکہ دھرتی ماں کی بھی بے حرمتی کی ہے۔“

اونگاما کیوراگاما نے میڈیاکے ساتھ گفتگو میں کہا، ”میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں۔۔۔ کولمبیا کی حکومت ہمیں انصاف فراہم کرنے کی ضمانت دے اور عہد کیا جائے کہ مستقبل میں مقامی قبائل کے کسی رکن کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔“

تئیس جون کو سات فوجیوں نے ملک کے خود مختار علاقے ایمبیرا چامی میں اس نوعمر لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملکی سطح پر غم وغصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے نتیجے میں ملکی فوج کے کمانڈر جنرل ایدوار ساپاٹیرو دو جولائی کو عوامی سطح پر یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ سن دو ہزار سولہ سے اب تک کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 118 واقعات زیر تفتیش ہیں۔ یہ واقعات کولمیبا کے علاوہ بیرون ممالک میں بھی رونما ہوئے ہیں۔

بگوٹا کی ڈل روسریو یونیورسٹی سے وابستہ وکیل اور صنفی بنیادوں پر ہونے والی تشدد کی ماہر ماریہ کامیلہ کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی بنانے کا تازہ واقعہ ‘ایک واضح مثال ہے کہ کولمبیا کے معاشرے میں بالخصوص مقامی قبائل کی خواتین کو صنفی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس طرح کے جرائم ہوتے رہے ہیں۔

اونگاما کیوراگاما کا کہنا ہے کہ ایمبیرا چامی گروپ کے افراد کو گھروں سے نکل کر جنگلوں میں سکونت اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گروپ کو ہراساں کیا جاتا ہے، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس گروپ کے بچیوں اور بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ لوگ بے گھری کا شکار ہو رہے ہیں۔

ماریہ کامیلہ نے کہا، ”کولمبیا میں مقامی قبائل کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے لیکن اس تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان قبائل کے حفاظت پر مامور افراد نے ہی ایک اور قبیلے کی ایک اور لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔

کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی سے منسلک قانونی ماہر ڈیانا کوئیگا کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا یہ تازہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے۔ مقامی قبیلے کوبیو سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کے بقول ماضی میں بھی اس طرح کے لرزہ خیز واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کوئیگا نے میڈیاکو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں مسلح تنازعات کے خاتمے کی خاطر فوجی تعینات کیے جانے کے بعد اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ملکی فوجی ہی چودہ برس سے کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں میں حاملہ ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور لڑکیوں کو برازیل میں اسمگل بھی کیا جانا شروع ہوا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment