بلوچستان کے ساحلی شہر اور ضلع گوادر کے تحصیل پسنی سے پاکستانی فورسز نے مزید 5 نوجوان جبراً لاپتہ کردیئے۔
اس سے قبل رواں ہفتے فورسز نے پسنی شہر و مضافات سے درجن بھر نوجوانوں کوجبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جن میں 2 بازیاب ہوگئے ہیں۔
گذشتہ روزلاپتہ کئے گئے پانچ نوجوانوں کی شناخت وحید مجید، حفیظ مجید ،وسیم مجید ، ندیم مجید اور عاصم بلوچ کے ناموں سے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل ساجد ولدصوالی، فیصل ولد صوالی ، احمد رضاخان ، سلیم رضا خان ، نصیب صوالی ،مقبول اکرم،زمان ولد پھلان ،وسیم پھٹان ، وشدل پھٹان اورکمسن علی کی شناخت ہوگئی تھی جبکہ دیگر کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
پسنی سے جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی فوری بازیابی کیلئے اہلخانہ نے آج بروزاتوار کو مکران کوسٹل ہائی وے کو پسنی زیروپوائنٹ پر دھرنا دیکر بند کردیا ہے ۔
مظاہرین میں خواتین و بچے شامل ہیں۔
دھرنے کے باعث مکران سے کراچی آمدورفت معطل ہو گئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔
مظاہرین کا کہنا ہے انہوں نے اپنے لاپتہ کی بازیابی کیلئے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ، ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک ان کے بچے بازیاب نہیں ہوتے ان کا احتجاج جاری رہے گا ۔
احتجاجی خواتین نے بتایاکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پسنی سے 13 کے قریب نوجوانوں کو گھروں سے اُٹھاکرلاپتہ کردیاگیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ لاپتہ ہونے والوں میں ایک چھوٹا بچہ بھی شامل ہے جسے گھر سے اُٹھا کر لے گئے ہیں ۔
مظاہرین کے مطابق لاپتہ ہونے والے تمام افراد بیگناہ ہیں اور انکا کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیئے انہوں نے بارہا مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے لیکن انکی جانب سے مایوس ہوکر ہم نے احتجاجاپسنی زیروپوائنٹ کو بند کردیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پسنی زیروپوائنٹ پر احتجاج کے لیئے آنے والی خواتین کو سادہ لباس اہلکاروں نے زبردستی روکے رکھا ہے اور انہیں پسنی زیروپوائنٹ جانے نہیں دیا جارہا۔
انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے پیاروں کو نہیں چھوڑا جاتا ہمارا احتجاج اسی طرح جاری رہے گا اور مکران کوسٹل ہائی وے پر دھرنا اسی طرح جاری رہے گی ۔