بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور ہوشاپ میں بلوچ نسل کشی اورجبری گمشدگیوں کیخلاف سی پیک شاہراہیں بدستور بلاک ہیں ۔لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی اور انصاف کے حصول کیلئے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
کیچ، تمپ دازن سے ظریف عمر اور بلیدہ سے نوید حمید کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف ایک ہفتے سے جاری دھرنے کو آج بروز جمعہ کوشہید فدا احمد چوک سے ڈی بلوچ پوائنٹ پر منتقل کرکے مرکزی شاہراہ بند کردیا گیا۔
تربت تا گوادر کراچی، و گوادر تا کوئٹہ کا ٹریفک معطل ہوگیا۔
مقتولین کے لواحقین نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ حکومت و انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی بناء پر وہ مجبوراً اپنا دھرنا مرکزی شاہراہ پر منتقل کررہے ہیں تاکہ انکی آواز انصاف فراہم کرنے والوں کے کانوں تک پہنچے۔
مقتولین کے لواحقین کے ساتھ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین بھی کثیر تعداد میں شریک ہیں جو اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اسی طرح ضلع کیچ کے ہوشاپ سے زمان جان اور ابولحسن کے لواحقین نے انکی جبری گمشدگی اور جھوٹے ایف آئی آر کے خلاف گزشتہ چار روز سے ایم-8 شاہراہ پر دھرنا دیکر ٹریفک معطل کردیا ہے۔
ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ انکے بچوں کو کیچ کے ضلعی کونسل کے چیئرمین نے طلب کرکے انہیں لاپتہ کردیا، جن کی گرفتاری بعدازاں سی ٹی ڈی نے قلعہ عبداللہ سے ظاہر کرکے ان پر دہشتگردی کے مقدمات درج کیئے ہیں، جوکہ لواحقین کے مطابق بے بنیاد الزام ہیں۔
ضلع کیچ کے داخلی اور خارجی راستوں پہ دو مقامات پر دھرنوں سے ضلع کا بین الصوبائی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
دھرنوں سے مسافروں کے پھنسنے کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں۔