بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ گوادر میں دھرنا آج تیسرے روز بھی جاری ہے،سمی دین اور صبغت اللہ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوپارہا،حب میں مظاہرین کو ریاستی فورسز دھمکا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بی وائی سی نے اپنے آفیشل اکائونٹ سے چند مختصر پوسٹوں میں کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی ٹیم نے صبغت اللہ بلوچ اور سمیع دین بلوچ سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔ تاہم گوادر میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے ہم مکمل تفصیلات حاصل نہیں کر سکے۔ گوادر میں BYC ٹیم کے ساتھ مکمل رابطہ قائم ہونے کے بعد، ہم واقعے کی تمام تفصیلات میڈیا میں شائع کریں گے۔
بی وائی سی کا کہنا تھا کہ 29 جولائی کی صبح پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بلوچ قومی اجتماع کے پرامن دھرنے پر وحشیانہ اور پرتشدد حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور 200 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ہمیں ابھی تک ان کے ٹھکانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ واقعے کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں نے عوامی طاقت اور حمایت سے دھرنا دوبارہ شروع کر دیا ہے جو آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔ اس وقت بھی پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) دھرنے کے علاقے کو گھیرے میں لے کر پرامن شرکاء کو مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔
بی وائی سی نے مزید کہا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے حب چوکی پر بی وائی سی کراچی دھرنے کے پرامن مظاہرین کو گرفتار کر کے انہیں دھمکیاں دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فاشسٹ ریاست بلوچ راجی موچی کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کر رہی ہے لیکن ناکام رہی ہے۔
انہوںنے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو بلوچ عوام پر پاکستانی ریاست کی بربریت کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔
بی وائی سی نے کہا کہ بلوچ راجی مچی کراچی کارواں کے ایک شریک نے بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بلوچ راجی مچی کے شرکا کے جبری اغوا اور پرتشدد جبر سمیت جاری ظالمانہ کریک ڈاؤن کے خلاف حب چوکی میں احتجاجی دھرنا دیا۔ ہم حب کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس دھرنے میں شامل ہوں۔