انسان کی آج تک تاریخ میں ظلم و بربریت کے حوالے سے تاتاریوں کا خاقان چنگیز خان کا نام تاریخ نویس سرِ فہرست رکھتے ہیں جہاں انہوںنے کم و بیش آدھی دنیا مسمار کرنے کے ساتھ وہاں کے باسیوں کے سروں سے اپنی فتوحات کے مینار تعمیر کیے۔
ظلم کی ایسی داستانیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان کی یہی دعا ہوتی ہے کہ انسانیت دوبارہ دورِ چنگیزی کو نہ دہرائے ۔انسان کی یہ تمناءتو ہوسکتی ہے لیکن انسان کی حیوانیت کے فطرت کو بدلنا شاید ممکن نہیں ۔اسی لیے تاریخ کے ہر دور میں ہمیں قہر نازل کرنے والے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے عہد میں انسانیت کا گلا گھونٹنے میں ذرا سی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ۔اور آج تک ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ اسی روانی کے ساتھ نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ دنیا کے بعض خطوں میں ظلم کی داستانوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں انسان مزید وحشی پن کا مظاہرہ کرہا ہے جن کے سامنے چنگیزخان کا دور بھی حقیر نظر آتا ہے ۔
ممکن ہے کہ عمومی زندگی میں کوئی انسان ظلم کی ایسی داستانوں پہ یقین بھی نہ کریں یامذہب کا لبادہ اڑھ کے کوئی تیمور ، محمد بن فاتح ،غزنوی، فرڈیننڈ، رچرڈیا ہٹلرکی بربریت کوعین انسانیت کی بقاءتصور کریں ۔۔۔لیکن ایک انسان جو انسانیت کو ہی سب سے بڑا مذہب خیال کرتا ہووہ ظلم کی ان داستانوں کو جو کسی نے بھی اور کسی بھی وجہ سے ڈھائے ہو انسانیت سے عاری تصور کرتا ہے۔۔۔
الغرض یہ قصے، افسانے اور روایت سنتے سنتے کہیں پیڑیاں داعی اجل کو لبیک کہنے سے پہلے یہ امنگ لیے کہ ظلم کی ایسی داستانوں کا دوبارہ نمو نہ ہوں ۔ ایسے ہی دعاہوں کا سہارا لے کرہم نے بھی بچپن سے جوانی میں قدم رکھا اور عین جوانی میں چنگیزی ظلم کے وہ قصے جو دل و دماغ میں گردش کررہے تھے ان سے بھی بدتر داستانوں سے واسطہ پڑا بلکہ آئے روز طاغوتی قوتوں کے ان معرکوں میں شدت ہی آئی جارہی ہے۔۔۔ہاں یہ ایسی دلفگار حقیقتیں ہیں۔۔۔جن کا سامنا تو ہم آئے روز کررہے ہیں ۔۔۔پر ۔۔۔ان دل دوز داستانوں کا بیان ممکن نہیں۔۔۔ جن کے سامنے ظلم کی وہ داستانیں بھی حقیر نظر آتے ہیں جو کسی چنگیز نے دنیا پہ ڈھائی ہو۔آج اگر ظلم کے وہ طلسم زندہ ہوتے تو وہ بھی ظلم کی ایسی داستانیں دیکھ کر خدا کے آگے سربسجود ہوکر کہتے کہ ہم میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اولاد آدم کو اتنی حقیر زندگی بخشتے۔ہاں ہم قہر نازل کرنے والے تھے ۔۔۔پر۔۔۔ بربریت کی موجودہ لہرجو بلوچ قوم پہ نازل کی گئی ہے ۔۔۔ایسی مثالیں انسانی تاریخ میں ناپید ہےں۔
ظلم و تاریکیوں کا یہ دور آج بلوچستان کے ہر کوچہ و گدان میں گردش کرتا نظرآتا ہے جہاں ایک ظالم اور طاغوتی قوت نے ظلم کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جس نے ماضی کی تمام قہرمانیوں کو مات دے رکھی ہے۔
ایسے الفاظ مجتمع کرتے وقت قلم ساکت ، ذہن منجمد، زبان گنگ اور آنکھیں دجلہ و فرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔۔۔عجیب سا ہوتا ہے یہ منظر جب ایک معصوم بچی ہوش میں آتے ہیں چیخ اٹھتی ہے ۔۔۔اماں۔۔۔اور۔۔۔اماں ظالموں کے قہرکا شکار ہوکے داعی اجل کو لبیک کہہ چکی ہے۔۔۔برمش۔۔۔چار سالہ برمش۔۔۔ہاں شاید اسے ابدی زندگی کا علم بھی نہیں ۔۔۔اس کے لیے تو جنت یہی دنیا ہے۔۔۔اس کے لیے خوشیوں کا انبار ۔۔۔اس کی ماں کی مسکراہٹ میں پوشیدہ ۔۔۔پر اب ماں بھی نہ رہی ۔۔۔اور ۔۔۔اوربرمش ماں کے انجام سے بے خبر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا۔۔۔
برمش جس پہ قہر ڈھائی گئی۔۔۔کس نے ۔۔۔اس سے تو آج ہر ذی شعور واقف ہے کہ ۔۔۔نوآبادکاروں کا تویہ پیشہ رہاہے ۔۔۔ہاں اس نا قابل یقین بربریت میں قوم کے صادق و جعفر بھی برابر کے حصہ دار ہیں ۔۔۔یہی وہ سلسلہ ِ ستم ہے جس کا شکار دو سالہ بختی بھی ہوا، قہر کی یہ وہی لہر ہے جس نے معصوم یاسمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔یہ بربریت کا وہی تسلسل ہے جس کا شکار گزشتہ ستر برسوں سے تہذیبوں کے سنگم کے باسی تہذیب سے عاری افراد کے ہاتھوں بن رہے ہیں۔۔۔
انسان ۔۔۔ہاں ان کی بات کررہا ہوں۔۔۔جو۔۔۔فرض ِ بشر کا احساس رکھتے ہیں ۔۔۔ایسی داستانوں پہ روتے روتے اپنی آنکھوں کی بینائی تک کھو دیتے ہیں ۔۔۔دردِ برمش نے تو ان پہ قیامت ڈھائی ہوگی ۔۔۔عجیب سا ہوتا ہوگا وہ منظر جہاں چولہاجلتا ہے تو اسے جلانے والا اپنے حواس پہ قابو نہیں رکھ پاتا ۔۔۔کتنا دل خراش ہوگا ، وہ منظر جب برمش اماں پکار رہی ہوتی ہے لیکن ماں کی صدا۔۔۔
ہا ں ماں کی صدا آتی نہیں کہ ”ماں“ تو برمش کی زندگی بچا کر خود داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔۔۔ایسے موقعوں پہ احساس ِ انسانیت رکھنے والوں کی حالات کیسے ہوگی ؟ بیان ممکن نہیں۔۔۔ ہاں شاید وہ یزدیت دیکھ کر اپنے حواس تک کھودیں۔۔۔یاپھر ۔۔۔پر المِ انسانی سے آشنا یہ لوگ کسی خضر کی راہ تھک رہے ہوں کہ وہ آئے اور ۔۔۔ عالم ِ انسان کو ایسی راہوں کا مسافر بنادیں۔۔۔تا کہ پھر کسی کو دردِ برمش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔وہ درد جس کے قصے کتابوں میں بھی ناپید ہیں۔