مقبوضہ مغربی کنارے کی 2000 ایکڑ زمین اسرائیلی ملکیت قرار دیدی گئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارےکی 2000 ایکڑ زمین کو ریاستی ملکیت قرار دیدیا ہے ۔

اسرائیل نے جمعے کو مقبوضہ مغربی کنارے میں 800 ہیکٹر (1,977 ایکڑ) اراضی پر قبضے کی اطلاع دی، جسے سر گرم کارکنوں نے کئی عشروں میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔

اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ نے وادی اردن کے شمالی علاقے کو ایسے میں "ریاستی زمین” قرار دیا جب امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن غزہ جنگ پر مذاکرات کے لیے اسرائیل پہنچے۔

اسرائیل کی غیر سرکاری تننظیم ’پیس ناؤ ” نے اعلان کے وقت کو "اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے کیونکہ یہ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن کے دورے کے دوران کیا گیا جو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سخت دائیں حکومت کی طرف سے یہودی بستیوں کی توسیع پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

تنظیم نے کہا ہے کہ 1993 کے اوسلو معاہدے کے بعد سے قبضے میں لیے جانے والے علاقے کا یہ سب سے بڑا رقبہ ہے، اور یہ کہ” 2024 میں ریاستی اراضی پر ملکیت کے دعوے اب تک کے سب سے بڑے ملکیتی دعوے ہیں۔”

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا اور مشرقی یروشلم کو ضم کر لیا تھا۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری غیر قانونی ہے۔

سموٹریچ ،جو انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صیہونیت پارٹی کے سربراہ ہیں، خود بھی آباد کاروں کی بستی میں رہتے ہیں۔

سموٹریچ نے کہا، ” اگرچہ اسرائیل میں اور دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہودیہ اور سامریہ کے علاقے اور ملک پر عمومی طور پر ہمارے حق کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، مگر ہم پورے ملک میں سخت محنت اور اسٹریٹجک طریقے سے آباد کاری کو فروغ دے رہے ہیں۔”

اسرائیل مغربی کنارے کے لیے "یہودیہ” اور "سامریہ” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

اسرائیل نے بیرونی مخالفت کے باوجود، حالیہ عشروں میں مغربی کنارے میں درجنوں یہودی بستیاں تعمیر کی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment