گمان یوں ہوتا ہے! | دانش بشیر

0
67

لگے رہو قبلہ یوں لگنا بھی درست ہے!
زندہ رہو! زندہ رہو! زندہ باد رہو!

گمان جب ہوا تو یوں خیال گزرا کہ رستے پہ چلتے چلتے ایک اسسی دوست بچھڑ جاتا ہے؛ اور راستہ اپنا راستہ ہونے کی اسسی کیفیت بھی کھو دیتا ہے۔

گمان یوں ہوا کہ ان کو گمان یوں ہوا ہوگا: ابتدا سے ہی وہ دو مختلف، مخالف نہیں، تو انہیں ہمراہ کم از کم نہیں کہا جاسکتا۔

گمان یوں ہوا: گویا اس سفرنامے کو کسی بھی وِیَکتی کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو ایسا گمان ہوتا ہوگا جیسے ہر مقام پہ سالک بعینہ دو ممتاز گروہوں میں، آپسی رفاقت نما کیف سے نوازے ہوئے تھے۔ اس سلک کو کہیں اور کسی زمانے میں بھی واحد نہیں مانا اور منوایا گیا۔ تاریخ جب بھی کھریدی گئی تو اس سے محض یہی علم بدیہی امڈ کہ ابھرتی گئی کہ یہ ممتاز سے ممتازتر کا سیرِ ممیّزہ ہے۔ سو سلوک کو ایک ماننا ہمیشہ سے خواہشِ محض رہی ہے، اور شاید کئی سالک تو اسی بنا پہ خود کی ثبوت فراہم کراتے ہیں۔ سیرِ ممیزہ کی گر صورت گری کی جائے تو یوں کہا جانے کو غیر از ممکن نہیں کہا جاسکتا کہ جب بھی سفر حال سے مقام پہ پہنچتی ہے تو حال اپنی حالت سے بچھڑ جاتی ہے۔ حال کا اظہار اور علم الحال کا حالی نہ ہونا؛ حالتِ حال کے حالتِ حال کی قیومیت میں رخنے کے ورود کا سبب بن سکتی ہے۔ حالتِ حال اور مقام میں مماثلت قیومیت کی ہے اور مقام المقام کو قیومیت کہتے ہیں۔ یوں حال مقام کا ہی جزو بنتا ہے۔ پر ایک ایسا جزو جو مقام کی عین رد ہو۔ یہ دوئی و یکتائی سائل کے کلام میں ہے؛ سالک کے پیروں تلے ہے۔ سالک جوں ہی مقام پہ قیام کرے وہیں سے سیرِ علمی کی نمو ہوتی ہے۔ علم مقام کا مظہر ہے۔ امتیازِ مقام کا مضمون لا-مقام کی پہچان ہے جہاں سے مقام کی حدیں ملتی ہیں۔ مقیم ہونے میں مقیمیت سے سوا ہونا بھی مقیمیت ہے۔ حال وہ مقام ہے جو علم المقام نہ رکھتی ہو۔ حالتِ حال میں مقیم کو مقیمیت کا علم نہیں ہوتا۔ اور یہ وہ علومِ کلیہ ہیں جن کے متعلق ہم علم نہ رکھنے کا دعوی کرسکتے ہیں۔ یہ غیر علم کے معلوم ہونے کا علم فراہم کرتی ہے۔ غیر علم ایک امکانی علم ہے۔ علم الامکان، امکانی علم کے علم ہونے کا علم ہے اور اسکی امکانیت بھی علم ہے۔ امکانِ علم وہ علم ہے جس میں کیفِ وقوع نے اب تک سرایت نہ کی ہو۔ اسی کی ضد میں جتنے مقامِ امکانیہ ہوسکیں، مقام ان میں سے کچھ ہے۔ اس کچھ کی پہچان کے مجاہدے کو سیرِ ممیزہ کہتے ہیں۔ سیر ممیزہ ایک سیر ہے جس میں ممتاز سے ممتاز کے چلن کا اظہار ہو۔

اسی گمانوں کے امتیازی سلوک میں یہ گمان ہوا کہ ان امتیازی تعبیرات کو سچ مانا جائے تو اس میں وارد اشکال کا امکان ہوگا۔

اسی اثنا ہمیں گمان ہوا: ہم نے بولنا حاکموں سے سیکھا ہے؛ ہمارے نعروں میں سے حاکم کے چیخنے اور دھمکانے کی بو آتی ہے۔ ہم اس بو سے اتنے بد حال اور بد حواس ہیں کہ اس امتیازی بو سے ھم نے بشارت پائی: "ہم ان سے جن سے یہ خاص بو نہیں آتی جدا ہیں”۔ ماسوائے بشارت کے، اس بیان کی یکسوئی سے ایمان کا امکان قائم نہیں رہ سکتا۔ اس گمان کو حق مان کے یہ بھی مانا گیا ہو کہ اختلاف اسس تضاد ہے گویا رشتہ متضاد آپس میں واقعتاً ضدین پہ قائم ہوں۔ سالک بہ حیثیتِ سلک ایک ہیں۔

مانا تو یوں بھی جاسکتا ہے؛ امکان تو اس کی بھی قوی ہے۔ حاکم، محکوم دو ایسی مقیمیت رکتھے ہوں کہ ان میں مماثلت کچھ بھی نہ ہو۔ حاکم محکوم دو علیحدہ وجود ہوں۔ اور انہیں اسی صورت قیومیت فراہم ہوتی ہو۔ نہ ضداً نے صفاتاً ممیز ہوں۔ قایم موجودات میں، چند وجودی اعتبارات سے جو حوادث سے سوا نہیں کچھ ہو سکیں۔ جیسے وجودِ حاکمیت کے لیے حکم کا ہونا لازم ہے پر حکم کا ابدی ہونا لازم نہیں۔ حادث وجود، جو قدیم سا اظہار کرنے کے مجاہدے میں غرق ہو؛ اور غرقابی میں کلام کرے تو اس کلام میں سے ان کےچیخنے اور دھمکانے کی بو آتی ہے۔

اسے یوں بھی پیش کیا جاسکتا ہے کہ حاکم سے ایک تہذیب جنم لیتی ہے۔ وہ تہذیب اپنے اظہارِ ظلم کو جنم دیتی ہے۔ یعنی محض ظلم ہی نہیں بلکہ اظہارِ ظلم بھی تاریخیت کے تابع ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: وہ اظہارات کلامِ مظلوم میں محض اس لیے وارد ہوتی ہیں کہ حاکم اسی نوعِ کلام سے آشنا ہے۔ جیسے حاکم سلاح بند ظلم کرے تو محکوم اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکے اسلاح لیس ہوجاتا ہے کہ حاکم نے عرصۂ دراز سے اپنے مدارس میں نومولودوں کو سکھایا ہوتا ہے: ان کے آبا نے علم الجمہور، مشرقی پاکستان کی عورتوں کے زنا سے، کشمیری مہم جوئیت کو بیچ کھا کے جنگی پیداواریت سے، افغانستان کو مسلاح پسند گروہوں میں بانٹ کے یا ایٹم بم بنا کے سیکھی ہے۔ جیسے حاکم کے کاسہ لیس کور فہم سرخوں نے اپنی خام خیالی کے تحت یہ غور کرنے کو انقلاب میں وقت کا زیاں سمجھا کہ بیس گھرانے کو پنجاب نہیں کہا جاسکتا۔ یا یوں کہیے کہ نعرۂ اختلافِ پنجابیت خود حاکم کی ہی اختراع ہے۔ پنجاب ایک ایسا خطہ ہے جس کا نام لیکر سرمایہ دار امیر تر ہوتا گیا، آمروں کو مقام امارت نصیب ہوئی، بنگلادیش کی قطع بریدگی ہوئی، مسئلہ کشمیر مسئلہ بنا، وغیرہ۔ اور 2006 اور 2009 میں بھی وہ فوجی ہی تھے جنہوں اس خونریز اختلاف کو جنم دیا۔ محکوم کا فن تقلیدِ حکم ہے۔ محکوم کو تاریخ حاکم سکھاتا ہے؛ پر حاکم اس قدر تاریخ سے بے نیازی میں غرق ہے کہ وہ یہ دھیان ہی نہیں رکھ پاتا کب وہ خود محکوم ہی کو بیان اور تالو فراہم کر گیا ہے۔ کیونکہ حاکم جب بھی ظلم کی اتھم کو پہنچتا ہے تو اس میں ہمایون چغتائی (مغل) کی سی شہوت جاگ جاتی ہے کہ کامرانیں ان کے دہلیز پلانگ رہے ہوتے ہیں اور وہ جنرل یحییٰ کی مانند چھڈی ڈھونڈنے میں مصروف اپنے کنیزوں کے ہاتھوں مدہوش انگور کے دانے بغیر چبائے نگل رہا ہوتا ہے۔ اور مایا ناز بیان باز، آمر کی اسی کیفیت کو ریاست کی ناکامی بتاتے ہیں، نہ کہ 3 لاکھ سے اوپر عورتوں کے کوکھوں کو مسلمان کرنے والے زانی این جی او رضاکار کے جبر اور خونریز بربریت کو محض نرم مزاج الفاظ میں بدل دیتے ہیں کہ "بہت ظلم ہوا تھا”۔

گمان یوں ہوتا ہے: اس سلوک میں محکوم حاکم کے وہ مرید ہیں جو مجذوبِ محض ہیں۔ جو جذب کا علم نہیں بلکہ جذب انکے عمل، ان کے رویوں سے جھلکتی ہے۔ محکوم کو ملامتیوں، سری سقطی، حلاج، بستامیوں کی مانند احساسِ جذب کو جوان مرد جیسے تذلیل القابات میں پیش کرنے کی حاجت نہیں ہوتی۔ کیونکہ عارف پہ بالارادہ واردِ عرفان ہوتا ہے۔ محکوم کے محکوم ہونے میں محکوم کا کوئی ارادہ شاملِ حال و مقام نہیں ہوتا۔

گمان ہوتا ہے: ایک دن علامہ ہیگل نے خواب دیکھا اور جب جاگے تو انہیں گمان ہوا: "کیا وہ خواب ہیگل نے دیکھا تھا؛ کہ ہیگل کو خواب نے دیکھا”۔

گمان یوں ہوتا ہے: خواجگانِ سلکِ المانیہ کے علامہ ہیگل کو خواب میں دکھایا گیا کہ خواب اور ہیگل دونوں بالارادی ہیں۔ جن سے انہیں گمان ہوا کہ سیب اور نیوٹن دونوں ذی ارادہ ہیں۔ اس لیے ریاضیاتی پہاڑے سے اسے یوں گمان ہوا کہ بنی نوع تاریخ کے جتنے انسانی مراسم ہیں ان میں دونوں متکلم ارادی روح کے حامل ہے۔ اس حساب سے محکومیت میں بھی حاکم کی مانند کہیں نہ کیفِ ارادہ تو ہوتا ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: محکوم کو المانوی حاکموں کی بغلوں کی اس بو نے ایسے سحر انگیز کردیا کہ انہوں نے اس حاکم کی تائیدی بیان کو ہی حاکم سے جذب کرکے حاکم کے برخلاف کار آمد جانا۔

ہیگل اپنے غلاموں کے بچوں کی گود میں بسکُٹ کھلا کے انہیں سکھاتا تھا کہ وہ بھی ہیگل پہ اتنی قوت رکھتے ہیں کہ ہیگل کو دکان تک جانے پہ مجبور کرکے؛ دو روپے خرچ کراکے؛ اس سے ٹائیگر بسکُٹ ہتھیاتے ہیں۔

گمان یوں ہوتا ہے: علامہ پہ ایمان رکھ اس غلام کے بچے نے اسی کو اپنی جیت مان لی۔

گمان ہوتا ہے: حاکم کیا خوب کردار ہے۔ وہ اپنے ظلم کو بھی محکوم کی جیت کے طور پہ دکھا کے محکوم کو ایک ضعم میں مدہوش کر دیتا ہے کہ گویا محکوم کو کیمیا سعادت ہاتھ لگ گئی ہو۔

گمان تو یوں بھی ہوتا ہے: ہم نے جب اختلاف رکھا تو ھم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ 60 سے 80 کے دہائی کے لونڈوں کے غل غپاڑوں کا مقام نہیں ہے۔ جس کا بی ایس او (نما) کے وہ لونڈے خواب بن رہے تھے۔ جس کے لیے ان سب کی رالیں ٹپک رہی تھیں۔ ان لونڈوں کے نعرے بازیوں کی تاریخ میں ایسی گرمجوشی اور یکسوئی ہے گویا یہ ھمیشہ ایکتا سے مانتے آئے ہیں کہ وہ ایک نہیں ہیں اس لیے یہ اتحاد اور یکسوئی کے عقلِ ذاتیہ کے مقام مستعملہ میں ہونے سے خود کو قاصر جانتے ہیں۔

گمان یوں ہوتا ہے: وہ تمام پرانے لونڈے آج بھی وہی بچگانگیت کی سیاست میں ہیں۔ ان لونڈوں کو یہ علم ہے کہ گویا یہ لونڈے اور ان کے حواری، ماسوائے ان کے، سے ممتاز ہیں۔ اور گویا یہ امتیاز اس بات کی جوازِ علمیہ فراھم کرتی ہے انہیں: اس متیاز کا اظہار ان کے غیر سے ہمیشہ امتیازی ہوگی۔ گویا حاکم و محکوم وجود کی دو مختلف حالتیں ہوں۔ انہیں روسیوں کی ناکامی؛ یا اپنے یاوروں کو (ڈاکٹر مالک، عبدالحئی، رازق اور جالب، اختر مینگل، ہزارخان بجارانی، کہور خان، ابولحسن (پونز)، اور نوے کی دہائی بکھاؤ سیاسی کیڈر جیسے لوگوں کی طرح) بیچ کھانے اور مروانے کے بعد یہ گمان ہوا؛ یا انہیں یہ گمان تب ہوا جب انہوں نے جمہور کی سیاست کو سائکوپیتھ ڈیتھ اسکواڈ، سمگلر، نئے اور قدیم جابر نسل پرستوں کے ہاتھوں خود مفلوج کر کے رکھ دیا؛ یا انہیں یہ گمان تب ہوا ہوگا جب ایٹم بم پھٹا؛ یہ زمین دہشت گرد امریکی سفاکیوں کی آماجگاہ بنی؛ زمینیں ڈرون پروجیکٹ میں بکے؛ طالبانوں کو محفوظ ٹھکانے دیے گئے؛ ہر ضلع سے انہی نام نہاد پارلیمان پرستوں کے یارباش مولوی نوجوانوں کو طالبان میں بھرتی کرتے رہے جن کے ساتھ مل کے انہوں نے حکومتیں چمکائیں۔

گمان یوں ہوتا ہے: جب یہ سب ہو رہا تھا وہ 60 سے 80 کے معمر لونڈے عالم وفاق کے وجود ضعمیہ میں خود کو غرق کیے ہوئے اس وِرد میں لگے تھے: اے وفاقِ اذلی ہمیں خود میں جانو؛ اور پہچانو؛ ہم بھی تم سا بننا چاہتے ہیں۔ یہ روایت بھی اس محکوم قوم کی تاریخ میں سے پھوٹتی ہے۔ جب مصلحت پسند اور بلوچوں کا نام نہاد سردارِ اعظم خان احمد یار خان کئی سالوں تک حاکم برطانیہ کی چاپ لوسی میں غرق رہتا ہے کہ انہیں بھی لائق تحسین مانا جائے۔ اور جب کوئی حربہ کام نہ آیا تو وہ فورٹ سنڈیمن کی چوٹی اور کوہِ مردار کے عقب میں کئی یگوں تک اپنی آتما کو سادھنا میں سمرپت کرتے ہیں اور بالآخر خدائے نوآبادیات انکی سن لیتے ہے اور انہیں خواب میں ایک سرمایہ دار گجراتی پودھ کا وکیل نظر آتا ہے جو اس کے تمام خواب پورے کرنے کا وعدہ کرتا ہے، جو محمد بھی ہے، علی بھی ہے اور جناح بھی۔ وہ ان کے عشق میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ انہیں یہ نظر آنا تک بند ہوجاتا ہے کہ آس پاس کے علاقوں میں چل کیا رہا ہے۔ اور یہ مہین جسامت کا سیاسی دلال ان سے کیا مفادات نکال سکتا ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: مظلوم کے مورخ کو ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ مظلوم شاید مظلوم ہونے کے سبب معصوم بھی ہے۔ اسی نسبت احمد یار خان کو تاریخ میں ایسے شخص کے طور پہ ہمیشہ دکھایا گیا ہے کہ انہیں تو علم ہی نہیں نوآبادیات میں کیا ہو رہا ہوتا ہے اس لیے انہیں ٹھگا گیا؛ وغیرہ۔

گمان یوں بھی تو ہوتا ہے: ظالم کو نظام کے عالم ہونے کی حاجت نہیں ہوتی۔ سرفراز بگٹی کو اگر بلوچستان کی سیاسی حیثیت اور اہمیت کی سمجھ نہ بھی ہو تب بھی من حیث الظلم وہ ظالم ہی ہوگا۔ خان احمد یار خان کو نو مولود پاکستان کی چپقلش سمجھ نہ بھی آئی ہوں تب بھی اس نے اپنی مفادات واضح طور پہ پہلے رکھیں۔ مصلحت کا سیاسی کیڈر غوث بخش بزنجو جتنا بھی وفاق میں سیاسی اور جمہوری نارے مارے وہ اپنے وطن میں سماجی جبر کا پردہ پوشی بھی کرتا رہا ہے اور اس جبر کے مفادات سے اس نے اپنی سیاست کو ایندھن فراہم کی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ کسی مضارع پہ جنسی تشدد ہو رہا ہے اور اس پہ بات کرنی چاہیے اور اس کے روک تھام کی ضرورت ہے، کے لیے کسی بڑی تعلیمی ادارے سے پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ایسے سیاسی نمائندوں کی پاکستانی صحافت باقاعدہ ترجمان ہے اور جو مورخ اس نوعیت کے بربریت کے ترجمان ہیں، اور جو سیاسی کارندے ایسے افعال کی حمایت کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں یا پردہ پوشی کرتے ہیں۔ گمان یوں ہوتا ہے کہ وہ حالتِ ظلم کے عالم ہیں اور ایسے عالم ظالم ہی ہیں۔

گمان یہ ہوتا ہے: 60 سے 80 کی دہائی کے معمر لونڈوں کو اس بات کی سمجھ لگ جاتی ہے کہ سیٹ آتمان ہے؛ اور سیٹ ہے سادھنا؛ سیٹ وحدۃ الوجود کے راستے سے ہوکے جاتی ہے، مال سیٹ ہے؛ اور اعمال ہے سیٹ۔

گمان یوں ہوتا ہے: 60 سے 80 کے معمر لونڈوں کے مخالفین کو لگتا ہے کہ ان بڈھے رال ٹپکانے والے غلیظ موجودات کو ان حقایق کا علم نہیں یا شاید یہ بے حس ہیں۔ کیوں کہ آخر ایسا کیا ہے جو یہ متواتر حاکم کے توشۂ موھوم پہ نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔ یا جیسے قبلہ فینن سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ یہ سب سازشی ہیں۔

گمان یوں ہوتا ہے: ان کو حق اسی میں ہی نظر آئی ہے۔ ان کو لگا ہے کہ یہی وہ زیستِ اصل ہے جس کی انہیں تالاش تھی۔ یہ کوہِ طور گئے ہی ابلیس کی تلاش میں طے کیونکہ انہیں حلاج بننا تھا۔ پر حلاج تو ان سے ہوا نہ گیا البتہ ابلیسی بن کے ضرور لوٹے ہیں۔

گمان یوں ہوتا ہے: انہیں اپنے ہمسایوں کو سولی چھڑتا دیکھ شاید اب تو مزہ بھی نہیں آتا۔

گمان یوں ہوتا ہے: یہ قصہ وہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ایک بادشاہ تھا، فوجی، اس کے خلاف عوام نے مہم جوئی کرنی چاہی۔ اور ان مہم جو کرداروں کو گمان ہوا کہ سب سے پہلے بادشاہ کے درباریوں کو منایا جائے۔ درباری اکھٹے کیے گئے، جن میں سے کچھ نے کہا دربار سے ہمارا واستہ تو عوامی خوشنودگی کے سبب تھا اگر عوام کو ملنا کچھ نہیں تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں۔ دوسروں نے کہا نہیں درباری آقا کو خوش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ابتداء میں یہ محض ایک بحث تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے گریبان تک پہنچ گئے۔ اور ایک وقت آتا ہے جب دونوں ایک دوسرے سے مایوس ہوکے کنارا کر لیتے ہیں۔ آقا مسلسل رعیت کی اس کھینچا تانی سے محظوظ ہوتا ہے۔ جب سارا کچھ خاموش ہونا شروع ہوتا ہے۔ تو آقا درباریوں میں مٹھائی بانٹتا ہے اور دربار مخالفین کو کوڑے اور سزائیں ملتی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ مٹھائی میں مدہوشی کی دوا ملی ہوتی ہے کہ درباریوں کو آہستا آہستا اقبال کی مانند آتش نمرود میں عشق کودھ پڑتا ہے۔

گمان یوں ہے کہ اقبال کو آتش نمرود میں کودھنا ابراھیم ہی کا ذاتی فیصلہ لگتا ہے، جیسے یہودیوں کے دادا کے پاس انتخاب کا کوئی حق ہو۔ اقبال تھے تو خوجگانِ المان سے متاثر۔

گمان یوں ہوتا ہے: اقبال مسلمانوں کی حمایت کرتے کرتے یوں کہہ جاتا ہے کہ جبر اب مسلمانوں کی قسمت میں ہے اور ظلم سہنا گویا ایک شاہسواری ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: ایسا گمان کرنا غلط ہے۔ پر اگر بڈھے بلوچ جیسے جبر کے طرفدار نظموں کو وجہ بنا کے اگر پاکستانی صحافی یہ دکھاسکتے ہیں کہ اقبال کی کوئی خاص سیاہ سی رائے تھی بلوچوں کے حوالے سے۔ اور کہنے والوں کو شرم تک نہیں آتی کہ جہاں یہ بھی طے نہیں ہو پاتا کہ اقبال کا لفظ بلوچ سرگودھا والے بلوچ تھے جن کے نام آج کل انکی ٹرانسپورٹیشن کمپنی چل رہی ہے یا کوئی اور پر جو بھی ہو؛ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہوا میں معلق ایک جملے سے یوں ثابت ہو سکتا ہے تو آتشِ نمرود سے اتنا تو ثابت کیا جا ہی سکتا ہے کہ برطانیہ مسلمانوں پہ اس لیے ظلم کر رہی تھی کیوں کہ برطانیہ ایک دور اندیش نوآبادیاتی آقا ہے اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ مظلوم ہونے کی حیثیت سے مسلمان ہی سب سے افضل ہیں۔ خدا نے ہمیں صرف عمدا آمر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ نسل کا غلام بننے کی بھی توفیق عطا فرمائی ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: یہی نظریہ اقبالیت ہے جس کا وفاقی فضائلِ اعمال کے صحیفوں میں ذکر آتا ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: درباری بھی شاید اقبال کے حواری تھے۔ اور یوں کرکے ان کے گھروں سے لوگ اٹھائے اور مارے گئے اور وہ خلیل اللہ کی مانند ظلم سے بے نیاز ایک اعلی سالک اور جواں مرد کی مانند آقا کے عرش کے سامنے محو تماشائی بن کے رہ گئے۔ انہیں اپنی ذات کا احساس تب ہوتا ہے جب شیخ کا دھیان ان مریدوں سے ہٹ کے کسی ملک شاہ گورگیج، قدوس بزنجو، سرفراز بگٹیوں کی جانب مبذول ہو جاتا ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: 60 سے 80 کے دہائی کے معمر لونڈے اپنے شیخ کے معصوم مرید ہیں۔ مظلوم کی عصمت، مظلوم کو معصوم دکھانا خود ظالم کی ترجمانی ہے۔ مظلوم کو ظالم ہمیشہ اسی حیثیت میں رہ کے دیکھتا ہے کہ یہ جو بھی کرتا ہے اپنی لاعلمی میں کرتا ہے؛ ان کی اچھائی ایک اتفاقی فعل ہے۔ وہ دیکھیں پہاڑی عورتیں روڈ پہ آ کہ بیٹھ گئیں؛ ان پہ ظلم ہو رہا ہے جبر ہو رہا ہے۔ ظالم کا زبان کل کی ترجمانی کرتا ہے مظلوم جزو میں بات کرتے ہیں۔ ظالم کے ترجمانوں کو اوکاڑا میں ظلم نظر آتا، مظلوم کو پنجاب کی تمام سرحدی علاقوں میں ہر روز فوجی بربریت یا مالداروں کے ایک ایک دن کے متفرقہ واقعات سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔

گمان یوں ہوتا ہے: مظلوم ظلم جیتا ہے، اس لیے وہ مظالم کے متعلق بات کرتا ہے۔ ظالم کے ترجمان ظلم کے متعلق بیٹھکوں، قہوہ خانوں، تعلیموں نظاموں میں سنتے ہیں اس لیے وہ کلیہ کے علاوہ بیان کرنے سے قاصر ہیں؛ اور مظلوم کے لیے ظلم ایک نظریہ نہیں بلکہ کئیوں واقعات کا ایک جھمگٹا ہے جسے ایک کر کے دیکھا جاسکنا ناممکن ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے کہ شاید اسی لیے بھی افضال احمد سید جنسی تشدد کو ایک غیر کی مانند بیان کرتے ہیں تو اس میں ان کا بیان ایکتا میں ہی رہتا ہے اور سارہ شگفتہ جب جبر پہ بیان دیتی ہے تو اس کا ایک نظم بھی ایک جگہ پہ ٹھہر نہیں پاتی۔

یہی یا ایسی ہی کوئی گھمبیرتا اور توجہ سے کہنے والی اہم ٹایپ بات ہوگی جس کی وجہ سے انکو یہ لگتا ہے کہ اگر وہ ووٹ کے لیے کھڑے ہونگے تو اس بات کے علم سے خود کو یکسر بھلا دینگے کہ حق ہے کیا۔ کیونکہ ان باقی تمام اندازہائے کلام تمام قوم آزما چکی ہے۔ پر گمان عالم تحیر میں محو و مدہوش ہے کہ بیان کی وہ کیسی حالت ہو کہ 60 سے 80 کے دہائی کے معمر لونڈوں کو اس اندازِ بیان میں بات کی سمجھ لگ جائے۔

گمان ہوتا ہے کہ آخر انہوں کونسا بیان کا طرز تھا وہ نہیں دیکھا! انہوں لاشیں گرتے، گراتے، اٹھتے اٹھاتے دیکھے ہیں، انہوں نے نعرے مارتے اور مار کھاتے دیکھے ہیں، انہوں نے گالیاں کھائی او کھلائی ہیں۔ شہروں گاوؤں میں جلسے جلوس ہوتے رہے، یہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ جلسوں پہ بم دھماکے اور فائرنگ ہوئے، یہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ جلوس میں لاٹ چارج ہوتی رہیں، یہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ گھروں پہ بمباری ہو رہی تھی، لوگوں حرمت بازاروں میں بے پردہ ہوتی رہی، لوگوں پیچ سڑک ننگا کرکے مار رہے تھے، انکو چلتی سواریوں سے روک کے انکے سواری ضبط کرکے انہیں مارا جاتا رہا، یہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ مضامین لکھے جا رہے تھے اس ظلم کے خلاف، یہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ کمیشنیں بیٹھ رہی تھیں تو یہ ووٹ مانگ رہے تھے۔

گمان یوں ہوتا ہے: انہیں جب بھی پایا گیا تو ووٹ مانگنے اور ووٹ کم ہونے کے دکھڑوں کے ابحاث کرتے ہی پایا گیا۔ گویا بنی نوع انسان میں ایک ایسا نوع خاص جن خاصہ ووٹ مانگنا ہے۔ یعنی اگر انسان حیوانِ ناطق تو یہ وہ حیوان ہیں جن کا نطق محض ووٹ مانگنے میں صرف ہو رہا ہے۔

گمان انہیں یوں پاتی ہے: وہ ہمیشہ حق کے وجود سے رو گردانی کریں گے۔ ایسی کونسے امکانات ہوتی ہونگی جن کے وجود سے یہ نظام منظم طور پہ خاص مقام کا مقیم ہونے کے باوجود اپنی مقیمیت کسی ایسے مقام سے جوڑے جو موجود ہی نہ ہو۔ اور اسی کو سبب مان کے ممبر پہ کھڑے ہوکے دھراتے رہیں کہ "ہم وہ نہیں جو یہ ہیں؛ جو یہ ہیں جن کی لاشیں ہیں، جن کے گم ہیں، جن کی امیدیں ہیں کہ ان کے پاس اس کو قائم رکھنے کی سہن ہو؛ ھم وہ نہیں ہیں۔ ہم وہ ہیں جو یہ نہیں ہیں۔ ہم وہ جو اس دھوڑ میں لگے ہیں کہ اس دیش میں وہ کونسا کٹھہرا یا کرسی ہے جس پہ ہم خود کو بیٹھا محسوس کریں اور اس پہ کھل کے کہہ سکیں ان کو جو ہم نہیں ہیں: دکھا بچو! ہم نہیں کہتے تھے کہ تم غلط ہو!”

پر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ 1988 سے لیکر اب تک کوئی جائے اختر مینگل، ڈاکٹر مالک، عبدالحئی وغیروں سے پوچھے کہ بھائی ماسوائے بکھاؤ ہونے کے اس نظامِ سیاست سے آپ کو کچھ ملا؟ منشیات فروش، دیتھ اسکوڈ کو پناہ دینے والے سرفراز اور قتال گر ثناء اللہ زہریوں سے تو پوچھنا بھی اپنی مٹی پلید کرنے والی بات ہے۔

گمان یوں بھی ہوتا ہے: حاکم نے، اپنے نوآبادکار چین کے بنائے ہوئے سرویلینس موبائل پیکیج شاید انہیں دی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا کے پوسٹ نظر نہیں آ رہے، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اتنی کم لاشیں ان کو گفتگو کرنے کے سلیقہ سے خارج معلوم ہوتی ہوں۔ وہ کیا صورتِ حال ہو کہ جس سے انہیں تب یقین آئے کہ وہ چاہے جتنا بھی اس بوسیدہ نظام کے پسے ہوں، پر یہ نظام چل انہی کے بل پہ رہی ہے۔ چاہے یہ کچھ کرنے کی اہلیت نہ بھی رکھتے ہوں؛ تب بھی اس قتال میں ان کا برابر کی ساجھیداری ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: یہ 60 سے 80 کے دہائی کے معمر لونڈے حاکم کے پیادے نہیں ہیں۔ وہ خان خداداد خان راج کے ہاتھوں مجبور نہیں تھا۔ راج ظالم ہے اور خان خداداد خان ظالم ہے۔ وفاق ظالم ہے اور الیکشنوں کے لیے سیٹیں گرم کرنے والے خواب دیکھنے والے اشخاص ظالم ہیں، وہ صحافت ظالم ہے جو خاموش ہے اور اگر بولتی بھی ہے تو اس لیے نہیں کہ مظلوم کی حمایت کرے بلکہ اس خوف کے ساتھ کہ ان غلیظ نسل کے لوگوں کی حمایت میں کچھ کہیں تاکہ کل کو ان کے کاٹن کے کلف میں سلوٹ نہ آجائے۔

گمان یوں ہوتا ہے: یہ جو لاشکار ہیں ،جن کو تنخواہ اس بات کی ملتی ہے کہ وہ زندہ کو لاش بنانے کا ہنر رکھتا ہو یا جو لاش بنانے کا کام کرتے ہیں ، ان کے پاس ایک کلا ہوتی ہے۔ جو تشدد کرنے والے سپاہی ہیں، ان کی بھی کچھ صلاحیتیں ہوتی ہونگی۔ ان میں بھی زیادہ اور کم تشدد کرنے والے ہوتے ہوں گے۔ کچھ ان سرکاری اداروں میں مشہور ہوتے ہوں گے کہ فلاں افسر جب اُس ٹارچر سیل یا کیمپ میں پہنچا تو سارے نایک اور لانس نایکوں اور دوسرے عہدہ داران کو گمان ہوا کہ اب سے سیل میں کسی نے فلاں فلاں طریقوں سے پٹھ کے جانا ہے۔ ان میں سے کچھ نے گالیوں کی کلا میں مہارت رکھی ہو گی۔ کچھ کو سلیقے سے یہ بھی آتا ہوگا کہ ڈنڈے کو کیسے استعمال کرنا ہے کہ ڈنڈا دیر سے ٹوٹے، مارنے والے کو مارنے میں تکلیف نہ ہو، مار کھانے والے کو مزید مار محسوس ہو اور اور تکھان بھی کم ہو۔ کچھ مارنے والوں کے متعلق یوں بھی مشہور ہوتا ہوگا وہ جب سیل میں آیا تو اس کی ریکارڈ تھی کہ اس نے فلاں سیل میں 13 گھنٹے بغیر رکھے ایک گمشدہ بلوچ سے ایک خاص سلیقے سے اظہارِ تشدد کیا۔ ان کے ہنر میں بھی جمالیات ہوتی ہوگی۔ کس نے کتنے انکاؤنٹر کیے ہیں، کس نے میڈیا میں کتنی دفعہ حقایق پہ منہ بند رکھا یا رکھوایا ہے، ان میں وہ بھی ہیں جو الیکشن میں ڈھکے چھپے شبدوں میں حاکم کی تائید و جی حضوری کے بول بالا رکھے ہیں، جو دفاتر میں محض یہ جان کے کام کر رہے ہیں کہ گویا وہ محض تنخواہدار مزدور ہوں انکے ان کاغذات کو دستخط کرنے سے کچھ اہم نہیں ہوتا ہو۔ ان میں سے کچھ سیل ہونگے جن میں مقابلے چل رہے ہوں گے۔

گمان یوں ہوتا ہے: تین دہائیوں سے چلنے والی اس تشدد سے بلوچستان میں ایک ایسا سماج موجود ہے جس کی اپنی بولی، اپنے رسم و رواج، اپنی ایمانیات، اپنا قرہ عرض ہے۔ جو کہ ان کا مقامِ وجودی ہے؛ جسے ‘بلوچستان کہا جاسکتا ہے۔ ان کے اب تک بود باش کے طرز بھی معروف ہوتی ہونگی۔ تشدد انکی آپسی کہاوتوں میں رچ بس چکی ہوگی۔ انکے بھی اپنے آدرش ہوتے ہونگے۔ کچھ عمدا آدرش واد لاشکار ایسے ابحاث کو حاکم کے محلوں میں دیواروں سے لگ کر کہنے کو غیر مہذب مانتے ہوں گے۔

گمان یوں کہتا ہے: ہمیں کہیں کہیں حاکم ہمیشہ نظر آ ہی جاتا ہے۔ گویا یہ منظر قیومیتِ حکم ہو۔

گمان یوں ہوتا ہے: اس تشدد کی ایک باقاعدہ ارتقائی طرز بھی ہوتا ہوگا۔ کوئی متشدد سپاہی اور افسر فلموں کے کسی متشدد کردار سے متاثر ہوکے تشدد کرتا ہوگا۔ کوئی کسی پرانے طالب یا القاعدہ اور امریکی جیلروں سے متاثر ہو کے اس نوعیت کا تشدد کرتا ہوگا۔

گمان یوں بھی ہوتا ہے: کچھ ایسے بھی ہونگے جو بچپن سے چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی ایسی نوکری ملے جس میں وہ لوگوں پہ تشدد کرے اور انہیں جب یہ عہدا ملا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوں اور وہ تمام حربے پہ جدت پسندانہ تجربے کر رہے ہوتے ہوں۔

گمان تو یوں بھی ہوتا ہے: شاید کچھ کافکا کے پینل کالونی کے افسر کی مانند کوئی اصولی تشدد کا حامی ہو۔ جنہیں اس بات سے کچھ غرض نہ ہو کہ فعل کی نوعیت کیا تھی پر اگر وہ اس کے پینل کالونی تک پہنچ ہی گیا ہے تو تشدد ہی ہونا ہے۔

گمان یہ ہے: اگر حاکم کو محض ایک گروہ کی مانند دکھایا جائے تو وہ حاکم کی پہچان میں ایک خلل کے قیام کا سبب بنتی ہے۔ حاکم کو ظالم کہنا اس کی اصل سے رو گردانی کا رستہ بہم پہنچاتی ہے۔ سفاکی ایک لفظ یا بیانیہ نہیں ہے۔ میڈیا کے بیانیے میں جس طرح سفاکیت کو پیش کیا جاتا ہے وہ بھی خوب ہے۔ ہمیشہ کل جزو سے الگ اور جزو کل سے ماورا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی بھی کل بدیہی نہیں ہے اور نہ ہی کسی جزو کو کل کے بغیر معنی خیز مانا جاسکتا ہے۔ جیسے یہ کہنا کہ وفاقی فوج سفاک ہے اور بات ہے اور یہ تفصیل سے کہنا کہ بیس سال وزیرستان میں کیسے کیسے فوج طالبان کی حمایت کرتی رہی؛ پھر کیسے مظالم، طالبان اور فوج نے عوام پہ ڈھائے؛ اور کیسے عوام کی زرعی پیداوار پہ فوج قابض ہورہی ہے کہ عوام کو خود سے اپنی فصل بیچنے کی آزادی چھینتی جا رہی ہے؛ چلغوزے کے فصل پہ وہ آہستہ آہستہ اپنی اجاراداری قائم رکھنے کی کوشش میں ہے؛ ویرستان کو ریڈزون قرار دے کر وہاں سیاحتی ریزورٹ بنا کے عوامی زمینوں پہ ایسا قبضہ جما رہی ہے کہ جہاں خود وزیرستان کے عوام کو آس پاس بھٹکنے تک کی اجازت نہیں۔ جہاں پکنک منانے والے نوجوانوں کو رات میں انہیں کی جلائی ہوئی میں فوجی جلا کے اپنے ہاتھ سیکتے ہیں۔ اور یہ شاعرانہ تُک بندی نہیں بلکہ یہ اصل واقعات ہیں۔ اس کے سوا ظالم کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔

گمان یہ ہے: ظلم ایک سانس لیتا ہوا جیتا جاگتا فعل ہے۔ ظلم کو جنرلائز کرنا ظلم کی پردہ پوشی ہے۔ بلوچستان میں گمشدہ افراد ایک ایسا لفظ سے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے گویا یہ کوئی تشخص ہو۔ گمشدگی ایک فعل ہے جس کو ایک لیبل دے کر اس کی حقانیت پہ پردہ پڑ جاتا ہے۔ بلوچ خواتین کا دھرنا ایک واحد طریقہ تھا اس فعل کی ترجمانی کرنے کا۔ کئی سالوں سے چلتے یہ دھرنے اس لفظ کو معنی فراہم کرتے ہیں۔ کئی الفاظ لفظی معنی نہیں رکھتے بلکہ ان کے معنی کا اظہار فعل سے سوا نہیں ہو سکتا۔ سرکار کیسے دکھتی ہے: انوار کے بیانیوں سے ملا؛ صحافت کیا سمجھتی ہے: وے پریس کلب کے خط نے واضح کردیا؛ فوجداری کیا مانتی ہے: وہ ایف آئی آر وغیروں سے پتہ لگا؛ کہانیاں ان خاندانوں سے ملیں اور مفکریں کے بیانات سے۔

گمان یوں کہتا ہے: گمشدگی صرف یوں بھی نہیں ہے۔ کیسے فوج طے کرتی ہے کسے اٹھانا ہے، انہیں کہاں کیسے اٹھایا جاتا ہے۔

گمان یوں ہوتا ہے: ان دونوں افعال کا انجام ایک خاص طرز میں کیا جاتا ہے جس میں ان اداروں کی مقصدیت واضح نظر آتی ہے۔ ایسا کوئی سرکاری ادارہ نہیں جنہیں اس شدت پسندی سے استثنا حاصل ہو۔

گمان یوں ہوتا ہے: اس تشدد کو دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ ان تمام پاکستانی مابعدنوآبادیاتی مفکرین کو ایک جیتا جاگتا مواد ملتا ہے کہ بلوچستان فوکو اور اگامبن کا State of Exception ہے، انہیں اپنی مبلغانہ مقالوں کے لیے حسین ترین نظریات مل سکتے تھے۔ اس مستثنائی حالت کو دیکھنے میں انہیں بھی ظاہر سی بات ہے کہ کوئی دلچسپی نہیں۔ شاید انہیں بھی لگا ہو کہ فرانسیسی جیسے بلیغ اشخاص کے مہذب بیانات کو ان بدتہذیب سماج سے کیوں جوڑا جائے۔ تمام شواہدات سے یہ واضح ہے کہ کلی اور سینکڑوں اور کیمپ ہیں جو کہ کنسنٹریشن کیمپ ہی ہیں۔ پر شاید بلوچ یہودی یا سامی النسل نہیں تو یہ بھی کسی کو نظر نہیں آئے گا۔ خدا جانے وہ سب کیسے ہوجاتا ہے کہ جب ایک سردار کا ذاتی جیل میڈیا میں اچھلتا ہے تو پاکستانی ہر نوع اور اقسام کے طرفدار یک زبان ہوکے ظلم و بربریت کے خلاف نعرہ زن ہوتے ہیں۔ پر جرنیل اور ایف سی افسر کے ذاتی کیمپ اور جیل خانوں کے حوالے سے گمان بھی کسی کو ہو تو وہ یکدم گاندھی جی کے بندر بن جاتے ہیں۔ اور ظاہر سی بات ہے جو ان عقوبت خانوں سے نکلے ہیں وہ تو جھوٹ ہی بولیں گے، ان کے سیاسی حواری ان کے طرفدار ہیں تو وہ بھی جھوٹ ہی بولیں گے، گمشدہ افراد کے لوحقین جو گھروں میں بیٹھے بیٹھے بور ہوتے ہیں تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا وہ اسلام آباد میں سیلفی کھینچنے آئے تھے تو وہ بھی جھوٹ ہی بول رہے تھے۔

گمان یہ ہوتا ہے: وفاق میں سچ بوٹ کی تھاپ سے ابھرتی ہے۔ کیوںکہ وفاق ان بیانات کو معقول مانتی ہے جو ایڑھیوں سے آئی ہو۔ اور ظاہر ہے سی بات ہے عوامی مسائل کے حوالے سے تحقیق کرنے میں ان اعلٰی تعلیم یافتہ بیان بازوں کی شان میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ان پنجاب اور سندھ وغیروں کے مفکروں پہ کون امید رکھ سکتا ہے کہ وہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے بارے میں بات کریں۔ جو لوگ اپنے دیہاتوں میں ہونے والے مظالم پہ پردہ پوشی کرکے کہ مغربی مباحثوں اور چغدبازیوں میں خود کو مشغول رکھیں۔ جو آئے دن انقلابات کے نئے نویلے القابات پہ رائے رکھتے ہیں، امریکی تحریکوں کی افضلیت پہ بحث کرنے کو عالمانہ رائے دہندگی سمجھتے ہیں۔ جو الیکشن میں کھڑے جاگیرداروں کو انکی سماجی حیثیت سے کاٹ کے ان کی شخصیت کو محض ووٹ بینک تک محدود کرکے دکھاتے ہیں اور یہ دھراتے ہیں کہ فلاں خوب ہے کیونکہ وہ تو اس کونسٹوئینسی سے جیتا آیا ہے۔ جس میں یہ بیان پنہاں ہے کہ ہم تو محض الیکشن کے نتائج پہ بات کر رہے ہیں۔ یہی سرخ عمار علی جان کو کل کوئی بہتر حامی ملے تو وہ انکے سنگ بھی متحد ہونگے جن کے نام پہ وہ اپنی کلاسوں میں تھوکا کرتے تھے۔ یہ کیسے کسی غیر مانے گئے لایعنی نسل کے متعلق کچھ سُچھی تحقیق کرکے بات کریں گے۔

یوں ہی سوال آتا ہے: کیا ان 60 سے 80 کے دہائی کے ادھیڑ عمر پرانے بی ایس او کے لونڈوں کو کبھی چلتے پھرتے یہ خیال نہیں آتا کہ علم بیچ کھانے اور طالبات حوس کے شکار ہونے کے لیے نہیں ہوتے۔

کیا انہوں نے کبھی سوچا ہوگا: سیاست سمگلرز اور کاروباری سیٹوں سے مال اینٹ کر اپنی سیاسی جماعت انہی کے قدموں میں نچاور کرنے کا نام نہیں ہوتا۔

کیا انہوں نے کبھی سوچا: وہ کس حد تک ہٹ دھرم ہوئے کہ حاکم کے لقمے کو ہاضون مان کے نگل گئے اور پھر یوں رہے جیسے یہ لاشیں اور گمشدگیاں کوئی مادی وجود ہی نہ رکھتی ہوں۔ گویا یہ محض تصور ہوں ایسے تصورات جو ان کے آدرشوں سے شاید میل نہیں کھاتیں۔

کیا انہوں نے خود یوں محسوس کیا کہ ان کو اپنا سماجی کردار کیسا لگوانا ہے۔

کیا وہ لاشکار کے اس سماجی طبیعت کو جان کے انکے ساتھ ہیں۔

کیا ان کو کبھی گمان ہوا کہ اگر اس بوسیدہ نوآبادیاتی نظام میں کچھ بھی کر پانا ناممکنات میں سے ہے تو ان کی رائے کیا ہے؛ اس حالت کے حوالے سے یعنی تو وہ کیا کر رہے ہیں۔ کیوںکہ وہ پاکستانی میڈیا میں تو کچھ بھی بکھیں پر اپنے حلقوں میں تو وہ جھوٹ نہیں بول سکتے وہاں وہ سب کو واضح بولتے بھی ہیں کہ ان سے کسی بھی شے کی کوئی امید نہ رکھی جائے۔ ورنہ تو یہ سب دھرنے ہی نہ ہوتے۔

کیا وہ منوانا چاہتے ہیں کہ وہ سلسلہ قتالگری کے حامی ہیں اور انہیں بھی اس میں شاملِ کار مانا جائے۔ جیسے کئی عوام انہیں ایمان کی حد تک ایسے ہی مانتی ہے۔ کیا وہ خود بھی یونہی سمجھتے ہیں۔

اپنے ماضی کے حواری اور سیاسی کیڈروں کو جو مرواتے ہیں یا مرتا دیکھتے ہیں، جن کے گھروں میں انہوں نے کئی راتیں بطور بھائی، ہمسایہ، کامریڈ گزاری ہیں ان کی لاشیں وہ خود جاکے برآمد کرتے ہیں تو ان کو کیا خیال آتا ہوگا۔ "حیف! فلاں اچھا شخص تھا، پر اب اس کا مرنا ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔”

یا چھوٹے بچوں کی لاشیں پھینکی جاتی ہیں، عورتوں مردوں پہ تشدد اور جنسی زیادتیاں ہوتی ہیں، جب مذہبی فرقہ واریت کی ہوا پھیلائے جاتے ہیں تب ان کو ایسے سانحات کیسے معلوم ہوتے ہونگے۔ کیا ان کو بھی لگتا ہے کہ یہ ظلم ہے۔

گمان کی بھاگ ڈھیلی پڑتی ہے اور بات نوآبادیات کے منشی صحافیوں تک جا پہنچتی ہے جن کو یہ گمان ہے کہ حاکم دیش، پاکستان، اتنی صفائی سے سفاکیت کا دھندا کرتا کے ہے ان کے خبر رساں اداروں کو فونوں فون خبر تک نہیں پہنچتی۔ کاش کہ عوامی گمان بھی اتنی ہی کند ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔

پر گمان عالم تحیر میں غرق یہ سوچتا ہے: کم نسلوں کے گاؤں پہ حکام کے بوٹوں سے زمین سیدھی کرکے ایک نام نہاد شہر اسلام کے نام پہ قایم ہوئی، جو حاکم کی سفاکیت کی پرتوئے اصلی ہے، جسے اسلام آباد جیسے بدنما نام سے جانا جاتا ہے، جہاں یہ سارے ہر دل عزیز خبرکار خبریں ایجاد کرتے ہیں، ان سے دو گھنٹے کی مسافت میں سوات میں ظلم و بربریت کا بازار گرم ہوتا ہے، جہاں کے پڑھے لکھے اپنے کام کاج چھوڑ کے انہیں کے دفاتر میں ایڈیٹر کا کام کر رہے ہوتے ہیں، پورا شہر سواتی مہاجروں سے بھر جاتا ہے۔ تب بھی 2014 تک یہ تمام خبرداروں پہ خبرداری کا حکم ہوتا ہے اور وہ یہ مسلسل کہہ رہے ہوتے ہیں کے انہیں کچھ بھی علم نہ تھا۔ بلوچستان کی خبریں جنہوں نے ذاتی نوعیتوں میں بند کی ہیں ان کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں علم نہیں تھا۔

گمان اسی علم کو جاننے کی تگ و دو میں ہے۔ ایک میڈکل ڈاکٹر جوان فارغ التحصیل ڈاکٹروں کو ھمراہ لے کے سماجی بہبود کے لیے تربت میں میڈکل اسٹور کھولتا ہے جسے ڈاکٹر مالک رئیس کہتے ہیں۔ اس شخص میں ایسے کونسے بدلاؤ آئے ہونگے کہ وہ فاشسٹ بننے پہ مجبور ہوگیا یا اسکی حمایتی بن بیٹا ہے۔

گمان میں یوں بھی تو آتا ہے: 60 سے 80 کی دہائی تک یہ لونڈے اسٹالین جیسے سفاک حاکم کے حامی تھے۔ شاید آج اس جیسا حاکم کو اس موجودہ نوآبادیاتی ریاست میں دیکھ کے وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہے ہوں کہ یہی تو وہ چاہتے تھے۔

گمان ہے کہ ان معمر لوںڈوں کو تو دلی طور پہ خوشی ہوتی ہوگی کہ نوآبادکار فوج بلوچستان میں 50 کی دہائی کے جارجیا کو دہرانے در پہ ہے۔

لیکن گمان یو بھی ہوتا ہے: شاید ایسا کچھ بھی نہیں ہے، کیوں کہ انہیں اتنا سوچتے ہوئے کبھی پایا نہیں گیا۔

شاید ابھی بھی 80 کی دہائی کی مانند یہی ہو رہا ہے کہ شہید حمید ہاسٹل کے طلبا نعروں کی تلفّظ بگاڑ کے کیوں کہتے ہیں، زبر کے بجائے زیر کیوں لگاتے ہیں، اینگلز کو اینجلز کیوں کہا گیا، جس سے شہید اسلم ہاسٹل کے لونڈوں کے بیچ ایک نظریاتی اختلاف قایم ہوتا ہے۔ اور مار دھاڑ ہوتی ہے۔ ٹانگیں ٹوٹتی ہیں۔ سر پھوٹتے ہیں۔ کامریڈ مروائے جاتے ہیں۔ حواریوں کی بولی لگائی جاتی ہے۔ جسے یہ زمانے سے کھل کھلاکے گدان چینل ایک لحظہ شرمندگی کے بغیر کہتے ہیں وہ زمانے تو کیا زمانے تھے۔ کسی کو تو بلوچ سیاست میں یہ جملہ کہنے کا حق ملنا چاہیے کہ بی ایس او کی دین بلوچ سیاست میں خاص کر 60 سے 80 کے تمامی دہائیوں تک ھیچ ہے۔ محض بچگانہ چغدبازیوں کے للہ اگر بی ایس او کچھ بھی دے پائی ہے۔ ماسوائے! چکنی چپڑی جھوٹی تورایخ کے نوسٹیلجک بیانات کے۔ پر گمان کہتا ہے کہ بزرگوں کے دل رکھنے کی خاطر یوں بھی نہیں کہنا چاہیے!

گمان یوں ہے: ان گم شدہ لوگوں میں ان کے ہمسائے، دوست، رشتہ دار، انکے پرانے ورکر اور قریبی لوگ بھی شامل ہیں۔

عالم تحیر میں حیران گمان انہیں حالتِ عجوبہ میں پاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ جب سیاسی ابحاث کرتے ہونگے تو کیا کہتے ہونگے۔

لمّا، ماما قدیر، اور ماہ رنگ جیسے لوگوں کے بچے، بھائی، باپ ان قتالوں کے ہتھے چھڑتے ہیں تو وہ اختر مینگل وڈوالا اور چنگیز مری کی مانند کم از کم پیپلز پارٹی جیسے حکومتوں کے ساتھ، ہر شے پہ پردہ ڈال کے، انکے ہم جھولی تو نہیں ہوتے۔ جس کے بھائی کی گم شدگی اور قتل ایک تاریخی حقیقت ہے۔

کیا ان کو یہ گمان ہے کہ اس دیش میں کوئی بھی شہری چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا اپنی زمین کی مادنیات بیچ کھانے والا وڈ کے دلال نما سردارزادہ ہو وہ کچھ بھی کہے اس سے کچھ ہونا نہیں ہے، تو ایسا بے سود عمل میں لگنے کا کیا فائدہ؟ تو وہ ان منتخبات میں کر کیا رہے ہیں۔

یونہی چلتے پھرتے گمان یوں ہوتا ہے کہ نیشنل پارٹی والے کیا ہیں۔ بیل امام جیسے سمگلر کے بیٹے کو ایم این اے بنواکے انہیں کیا ملتا ہے۔ اور خدا جانے تربت کے باجگزار صحافیوں کو کیا سوجھتی ہے جو انکی جے جے کار میں ھمیشہ جت جاتے ہیں۔

گمان یہ ہے: شاید یہ سیاسی لوگ ہی نہیں ہیں جیسے اسد اللہ خدابادانی، احسان شاہ زوربازاری، محمد علی چاہسری، ملا عطا اللہ تسپ مدرسئی، سرفراز، وغیرہ کئی مواقعوں پہ کہتے آئے ہیں کہ وہ پیسے لگاتے ہیں تاکہ کاروبار کریں اور ان کے لیے یہ سیاست ایک کاروبار ہے۔ پر یہ ایک واحد کاروبار ہے جن پہ کسی بھی جبر کا اثر نہیں ہوتا۔ جب پورے بلوچستان کے کاروباری ہڑتال میں ہوتے ہیں تب یہ مزید لوگ پکڑواکے اپنے استبقالی نشستوں کو مضبوط کراتے ہیں۔ ان کے دھندھے میں نہ کبھی مندی پڑتی ہے نہ کچھ اور معاملہ ہوتا ہمشہ بس ایک خوف کی سیاست ہے کہ حاکم کو کیسے کیسے حربوں سے خوش کیا جائے۔

گمان یوں ہے: شاید یہ آپس میں ایف سی کے مختلف کیمپوں میں فون کرتے رہتے ہونگے کہ خدارا اس بار انہیں حکومت میں شامل کیا جائے کیوں کہ ان کے پاس ایران اور افغان بارڈر کے منیشیات اور دیگر کاروباری ٹھیکے ہاتھ آئے ہیں وہ موٹی رقم انہیں دے دینگے۔

کیوں کہ اگر ان معصوم سادہ لو بلوچوں کو یہ گمان ہے کہ چونکے یہ راجی دلال اپنے بھائیوں کو عقوبت خانوں میں دھکیل رہے ہیں اور حاکم اسی پہ خوش ہیں۔ تو وہ جان لیں کہ حاکم اس قدر بے نیاز ہے کہ انہیں اپنے سپاہیوں کے قتل عام سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انکو خونریزی بھاتی ہی نہیں ہے۔ یہ سب دکھاوا ہے، عقوبت خانوں سے پیسے نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے انہیں خود بھی حقیقتاً یہ علم نہیں کے انہوں نے کتنے اندر کئے، کتنے مارے اور کتنوں کے ساتھ خدا جانے کیا کیا۔

یہ ایک باقاعدہ دھندہ ہے جو سمگلنگ، ملٹری بیس، ایران پاکستان دہشت گردی کی صفائی، چمن کے گاڑیوں وغیرہ سے مسلسل آ رہا ہے۔ یہ مسلسل اسی دھندے کو چمکاتے نظر آتے ہیں۔

چونکے یہ مغلوں سے متاثرہ حکام ہیں تو گمان ہوتا ہے: یہ کبھی کبھار شکار کے شوق میں گھر سے باہر نکلتے ہیں، تو نیشنل پارٹی، عوامی، علماء، جماعت، رال ٹپکاتے ان کے پیچے آن لگتے ہیں ان کو کونسا انسان دکھنے والا قابلِ شکار جانور جو نسلاً بلوچ دکھتا ہو کی نشادہی کرائیں اور انہیں پکڑ کے عقوبت خانوں کی زینت بنائیں اور روز جب اس بیابان میں کچھ اور کرنے کو نہ ملے تو ان کو نئے طریقوں سے چیخ و پکار پہ آمادہ کیا جائے۔

جیسے محافظ کتوں کو دھڑبوں میں بند رکھنے والے منحوس بنی نوع، انہیں مرچ کھلا کے، پیٹ کے، بیڑیاں پہنا کے محظوظ ہوتے ہیں کہ کل یہ خوب ان کا پالتو ہوگا۔ اس طرح؛ مگر حکام اور ان بے حسوں میں فرق صرف یہ ہے کہ اول الذکر زیادہ کانٹ کو ماننے والے ہیں اور ظلم صرف ظلم کرنے کی نیت سے کرتے ہیں۔

گمان یہی کہتا ہے: بات کہیں سے کہیں پہ بھی لے جایا جائے گمان کرنے والے کی کند بد دماغ میں بس یہیں تک بات پہنچتی ہے کہ یہ ظلم محض ظلم کی نیت سے ہی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پہ اگر نوآبادکار کے نمائندوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ تخریبکار ہے تو اس لیے عقوبت خانوں میں ہیں۔ تو وہ شاید بھول گئے ہیں اس نوآبادی ریاست نے کبھی تخریب کاروں کے ساتھ ایسا کچھ کیا نہیں ہے۔

یہ ہندوستانی اینجنٹوں کو چائے پانی پلا کے واپس بھیج دیتے ہیں اور اسی واقعہ کو جواز بنا کے مزید بلوچ گم ہوجاتے ہیں۔ وہ کشمیری تخریبیوں کو پناہ دیتے ہیں، وہ ملا ریوڈیو کو پال پوس کے بڑا کراتے ہیں اور پھر جب انکا شوق پورا ہوجاتا ہے تو اسے مار دیتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کراچی کی سڑکوں پہ کتے مارتے ہوئے پولیس کچھ نہ کچھ جواز فراہم کرتے ہیں ان کتوں کے قتل عام کا؛ یہ بھی من و عن ویسے ہی جواز پہ کام چلاتے ہیں۔

مشرقی پاکستان تو اس نوع کے ظلم کی واضح مثال ہے کہ اگر ان کا کچھ پڑھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اس کا حاصل کچھ بھی نہیں ماسوائے شوقِ قتل کے۔ اور اس قتال میں بلوچستان کے تمام نوآبادیاتی حواری شامل ہیں چاہے وہ خاموش ہوں یا کہ سیٹیں نہ ملنے پہ رو رہے ہوں۔ یہ درندگی صرف درندگی کو قایم رکھنے کی نیت سے ہے اور کوئی جایز وجہ اس کے پیچھے ہو ہی نہیں سکتی۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here