بلوچ تاریخ نورا جیسے گوہر قیمتی نوجوانوں کا اثاثہ ہے۔جہاں دشمن صدیوں سے ان نوجوانوں کی وطن دوستی اور بہادری کے سامنے ندامت و شرمندگی کا سامنا کرتا آرہا ہے۔ایسی ہستیوں کے کارناموں کی بدولت نہ صرف کسی قوم کے لیے فتح کے در کھلتے ہیں بلکہ انہی ہستیوں کی خدمات کی وجہ سے تہذیب پروان چڑھتی ہے۔تہذیب کے ان بانیوں کے کارنامے سُن کر تو بسا اوقات یقین ہی نہیں ہوتا اور وہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے کہ ایک انسان انتہائی محدود مدت میں ایسے کھٹن مراحل کامیابی سے کیے طے کرسکتی ہے وہ بھی ایک ایسے سماج میں جو عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں مقید ہو۔۔۔غلامی کی زنجیریں۔۔۔ہاں شاید جواب بھی انہی الفاظ میں پوشیدہ ہے ”غلامی“ اور سب سے بڑھ کر جو کچھ انہونی کرنے کو اکساتا ہے وہ ہے احساس غلامی ۔۔۔شہید میجر نورا انہی ستاروں میں سے ایک تھا جسے شدت کے غلامی کا احساس تھا اور وہ اس ذلت کی زندگی سے ایک اجتماع کو چھٹکارہ دلانے کی جانب گامزن ہوکر عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔
شہید نورا نے اس سفر کا اغاز کب کیا اس بابت کچھ کہا نہیں جاسکتا البتہ انہوں نے جہد آزادی میں عملی کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کی اس کا جواب بالا سطور میں درج ہے کہ ”احساس غلامی“ ۔ یہی احساس انسان میں جذبہ حریت کو پروان چڑھانے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر روز کچھ نیا کرنے ، ہر لمحہ منفرد کردار ادا کرنے اور ہر ساعت بس قوم کے لیے نجات کے راستے تلاشنے کی جستجو میں مگن رہتا ہے۔یہ احساس نورا کے کردار اور اس کی اس دس سالہ جدوجہد میں ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے آخری پیغام میں قومی آزادی کی امنگ کے احساس کو ہم واضح طور پر دیکھ اور محسوس کرسکتے ہیں۔
شہید نورا کا یہ پیغام جو دشمن کے نرغے میں آنے کے باوجود وہ جس عزم کا مظاہرہ کررہا تھا وہ خود میں منفرد اہمیت کا حامل ہے ، نورا کا یہی کردار ہی اسے انفرادیت بخشتی ہے۔
شہید نورا کے پیغام کو سنتے ہی جذبات اورشعور کو ملی جلی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔جذبات کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو نکل پڑے جبکہ شعور نے طاقت دی کہ جنگ آزادی اور انقلاب کا برپا ہونا قربانیوں ہی کی مرہون منت ہے۔نورا جان کا آخری پیغام کہ جیت ہماری ہوگی وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب دشمن فوج بھاری نفری لئے حملہ آور ہے جبکہ ایک ساتھی شہید اور دوسرا زخمی ہوچکا تھا۔لیکن نورا کی باتوں سے تحریک ملتی ہے کہ موت سے آنکھیں ملا کر کھڑے ہونے والے ہی تاریخ رقم کرتے ہیں اور نورا نے ایک نئی تاریخ رقم کرکے بلوچ تاریخ میں خود کو ہمیشہ کے لئے امر کردیا۔
ایسے کرداروں پہ تاریخ نازاں رہتی ہے جن کی جدوجہد ایک اجتماع کو تحریک دینے کا سامان فراہم کرتا ہے ۔شہید نورا کا تحریک آزادی میں کردار، نورا کا نظریہ وفکر نہ صرف قوم کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ اس کے آدرش جس کا نظارہ ویسے تو ہم شہید نورا کے کارناموں میں دیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لوداعی پیغام میں واضح طور پر اس کی جھلک دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔جہاں اس مرد آہن نے قومی تحریک میں ایسی ارتعاش پیدا کی جو یقیناً کامیابی سے منزل پہ پہنچنے کا باعث ہوگا۔
بلوچ تاریخ بہادروں کی تاریخ ہے، البتہ اس امر سے بھی انکار نہیں کہ دنیا کے دیگر اقوام کی طرح ہمارے ہاں بھی سرزمین اور قوم کے سودا گر اپنی قیمت لگانے دشمن کی آغوش میں جائے پناہ تلاشنے کی کوششیں کرتے ہیںلیکن ایسے افراد تاریخ میں کس مقام پہ ہیں ان جیسے صادق و جعفر سے ہر کوئی واقف ہے۔جب آنے والے دنوں میں موجودہ تحریک کا ذکر ہوگا تو یقینا بلوچ قوم کے غدار اور بے ضمیروں کا سر شرم سے نہ صرف جھک جائے گا بلکہ ہمیشہ اپنی کردہ غداری اور مخبری کے سامنے ندامت کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہونگے لیکن اسکے ساتھ ساتھ نورا کی آواز بلوچستان کے پہاڑوں اور وادیوں میں ہمیشہ گونجے گی کیونکہ یہ آواز نورا کی آواز نہیں بلکہ ہر بلوچ کسان،چرواہا،ماہی گیر،طالب علم کی آواز ہے۔ یہ آواز ہر بچے بوڑھے جوان اور مرد و زن کی آواز ہے۔ یہی وہ آواز ہے جس میں مائیں اپنے بچوں کو لوری سنائیں گے، یہی وہ کردار ہے جہاں ہر رات سونے سے پہلے ہر بچہ اپنے والدین سے نورا کی بہادری کا پیغام سنے بغیر سونے کو تیار نہیں ہونگے،جہاں جنگل میں گنگناتے پرندے اگرنورا کی کہانی بیان نہ کرتے ہوں تو رات کو گھونسلوں میں سکون کی نیند نہیں سوپائیں گے۔۔۔راتوں کو دہقان اپنی کھیتوں میں اونچی آواز میں اگر نورا کی کہانی کو گیت کی صورت میں نہ گائیں تو رات نہیں گزرے گی۔۔۔۔اگر چرواہا پہاڑوں میں نورا کوبیان کردیں تو ہر ایک ذرہ ہوا کے ساتھ جھولنے لگے گی ۔۔۔سرزمین بلوچستان کا ہر پتھر شان و فخر سے ہوگاکہ نورا مجھے مورچہ” سنگر “بناکر دشمن سے لڑتا رہا۔۔۔یہی خوبصورتی ہے بہادری کی۔۔۔یہی ہوتاہے جنگوں کی داستان۔۔۔یہی کردار تہذیب کے داعی ہوتے ہیں ۔
بہادروں کی تاریخ لکھتے وقت مصنف اگر بزدل رہا تو وہ بزدلی کے مارے تاریخ نہیں لکھ پائے گا۔۔۔بہادر وںکی تاریخ کو لکھتے وقت بہادر مصنف کی ضرورت ہوگی۔۔۔اور بہادر اور بے باک مصنف انہی بہادروں کی قربانیوں اور ان کے الولعزم پیغامات سے جنم لینگے جس کی مثال شہید نورا کا آخری پیغام ہے جس میں وہ موت سے بغل گیر ہوتے وقت بھی جیت کا جشن منا رہا ہے۔
٭٭٭