شھید پیرک جان جو کامیاب رہا …. کامریڈ شاہین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بلوچ قومی تحریک آزادی کے کچھ ایسے انمول ہیرے گُزرے ہیں جو سر تا پا انقلابی معیار کے اعلی پیکر تھے جن کی شبابہ روز انقلابی اقدامات اور احسن کارگردگی نے شمعِ آزادی کے کو جلا بخشی وہ محاذِ آزادی کے بے مثال و بے باک ہیرو مانے جاتے ہیں اور ہماگیر صلاحیتوں وصفِ انسانیت کے مالک تھے جن کی قومی تحریک آزادی کیلیے خدمات ،صلاحیتوں اور اعلی اوصاف کے ہر خاص و عام معترف ہیں جن کی کمی کو قومی تحریک آزادی کے ہر ادارے یقیناََشدت کے ساتھ محسوس کرتی رہیگی میرے لئیے یہ بات باعثِ سعادت سے کہیں بڑھ کر ہے کہ جن کے ساتھ مجھے شرفِ ملاقات نصیب رہا یا اُن کے ساتھ میری تھوڑی بہت قربت تھی جن میں شھید سنگت ثنا بلوچ، شھید چیرمین حمید شاھین شھید آغا عابد شاہ، شھید علی شیر کرد اور شھید نورا بلوچ عرف پیرک جان شامل ہیں جنہیں قومی تحریک آزادی کے انتہائی مخلص سپاسالار کے طور پر مانا اور جانا جاتا ہے قومی تحریک آزادی سے اُن کی وابستگی خود میں ایک الگ تحریک کی مانند ہے جنہوں اپنے لہو سےاعلی معیارکی ایک تاریخ رقم کی ہوئی ہے دوسروں کی بہ نسبت شھید پیرک جان کے ساتھ میری خاصی قربت رہی ہے اور یہ قربت دوستی اور پیار کی رنگ میں ڈھل چکی تھی وہ پیار جِسے میں پاکر بھی نہ پا سکا اور بُھلا کر بھی نہ بُھلا سکااب یہ تُشنگی عمر بھر دامن گیر رہا تقریباََ تین سے چار سال تک مجھے شھید پیرک جان کے ساتھ اکٹھے رہنے اور کچھ کام کرنے کا موقع ملا جمہوری روایات کے عین مطابق بعض معاملات میں ہم ایک دوسرے سے انتہائی الگ الگ اختلافی رائے رکھتے تھے یا یوں کہیں بقول ایک سینئر دوست کے ایک دفعہ اُس نے مجھے کہا بھی کہ آپ دونوں کے درمیان کچھ غلط فہمیاں حائل ہیں لیکن میں سب کچھ سمجھنے سے قاصر بھی رہا تاہم میں نےشھید پیرک جان میں ایک حقیقی سرمچار کے روپ کو بہت ہی قریب سے دیکھا وہ جھدِ مسلسل کی ایک زندہ علامت ہیں انتہائی جفاکش اور نہ تھکنے والے ساتھی جو ہمیشہ تحریکی کاموں میں برسر پیکار تھے کامیابی کی جستجو اور لگن رکھتے تھے کچھ نیا کرنے اور کچھ بڑا کرگزرنے کی چاہ رکھتے تھے وہ ہمیشہ اپنے کام میں مگن رہتے تھے کام کرنے کے نت نئے طریقوں پر دن رات سوچتے رہتے بلکہ سوچتے سوچتے اس کی یہ حالت رہی جب رات کو ایک دو گھنٹہ سونے کو بہ مشکل ملتا تو بعد میں جب صبح اٹتھے تو دستیاب رضائی پر منٹوں اُلٹی کیا کرتے تھے کافی عرصے تک یہی اس کا معمول رہا کسی سفر پر جب ایک تحریکی دوست کے ساتھ ملاقات ہوئی جو کہ ایک فزیشن سرجن تھے ہم نے یہ معاملہ ڈسکس کیا تو اس نے فرمایا یہ علامت آپ کے بے خوابی کی وجہ سے ہے تو شھید پیرک جان نے کہا اگر میں اپنے خواب پر توجہ مرکوز کروں تو قومی تحریک کے فرائض کیسے انجام دے پاؤں گا اگر اس سے کم تر کوئی نسخہ ہو تو بتا دیجیے میں اپنے قومی فرائض سے سمجھو تہ نہیں کرپاؤں گا اِس کے علاوہ سفر کی دشواریوں اور شدّت کی وجہ سے اکثر اس کے جسم سے خون آتاتھا لیکن اُس نے کسی دوست کو یہ خبر ہونے تک نہیں دی حتی کہ اُس کے بھائی تک کوبھی یہ معلوم نہیں رہا کہیں ہم سفر کو نکلنے والے تھے میں نے غسل کرنے کا اصرار کیا اور اُسے پانی پر لے گیا تب مجھے پتا چلا کہ اُس کے کپڑے اور سواری پر نیچے رکھے ہو ئے رضائی کو دیکھ کر جو خون سے لت پت تھا اس کے باوجود ہم نے کام میں مہینوں تین ڈسٹرکٹ کیچ ، آواران اور پنجگور ہوکے گُزارے جھاں بھی پڑاؤ پڑتا وہ دوستوں کے بیچ بیٹھ کر قہقے لگاتا رہتا تھا اسکے چھرے پر کسی نے درد کی علامت نہیں دیکھی میری پوری توجہ اس کی حالت پر مرکوز رہتی لیکن وہ مجھے کہتے تھے یہ عدت ہے گزر جائیگا برائے مھربانی کسی کو بتانا نہیں یعنی کوئی کمزوری اس کے کام میں رکاوٹ نہیں رہی ہم میں اور دوستوں میں کافی کمزوریاں تھیں جن کمزوریوں سے ہم بھاگتے رہے لیکن وہ انہی کمزوریوں سے کام کروانے کے انتہائی ماہر تھے تنظیم اور تنظیمی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے داعی تھے اور اداروں کی مضبوطی کے علم برادر تھے حتی کہ قوم کے نام اپنے آخری پیغام میں بھی اداروں کے استحکام پر زور دیتا رہا اور قومی قیادت سے اُس کی یہی ایک التجا تھی اس سے آپ لوگ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُن کے ہاں اپنے کام اورکام کے ساتھ ساتھ اداروں کی استحکام کی کتنی بڑی افادیت ہوگی کیونکہ وہ اپنے روز مرّہ امور کی انجام دہی کے علاہ ہمیشہ سوچتھے رہتے تھے کہ بلوچ قومی طاقت کی مرکزیت اداروں پر منحصر ہے اداروں کا استحکام اور باہمی اشتراک قومی تحریک کا صحیح سمت متعین کرسکتا ہے اور دشمن کے تمام مذموم عزائم کی ناکامی کا محرک ہے شھید پیرک اپنے تنظیم کے علاوہ قومی تحریک سے وابستہ کسی بھی تنظیم کے دوستوں سے ملتے تھے تو اداروں کی ترقی اور استحکام اُن کا اولین موضوع رہا اور کہتے تھے اگر ذیلی سطح پر دوست اِن چیزوں پر زور دیں تو یہیں سے یہ مرکزیت پکڑے گا سب کچھ ہم مرکز پر چھوڑ نہیں سکتے مرکز پالیسیز وضع کرتا ہے عالمی سطح پر تحریکی تقاضوں کو مد نظر رکھتاہے مرکز پر حالات و واقعات کے تناظر میں پہلے سے انتہائی اہم ذمہ داریاں ہیں اُن کیلئیے آسانیاں پیدا کرنے کے اہم ترین ذرائع ہم ہوسکتے ہیں اگر اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ رہیں شھید پیرک کے اِسی جفا کشی اور تحریک کے فروغ و کامرانی کی مسلسل جستجو کو دیکھ کر میں ہمیشہ اُسے کہتا تھا اگرآپ کی طرح قومی تحریک آزادی سے جُڑے سبھی ساتھیوں اور ذمہ داروں میں کام کرنے کی یہ یکساں معیار ہوتی تو کچھ شک نہیں ہم بلوچ قومی آزادی کو بہت ہی قریب سے قریب تر دیکھ لیتے لیکن آزادی جو خود اپنے معنی میں ایک بے مثل شے ہے اس کو پانے کیلئے وہی کچھ کرنا پڑتاہے جو اس کی معیارکے معراج کی روح ہو شاید اسی لئیے وہ ہمارے انمول ہیروں کو چُن چُن کر اپنے بطن میں پرو لے رہا ہے جنہیں آزادی سے پیار رہا جو انسانی شرف اور اقدارکے حسین امتزاج کے مصور تھے جنہوں نے ذاتی اور فروعی خواہشات کی وادی سے کہیں دور صحراؤں اور بیابانوں میں قومی حُرّیت کے علم کو بلند رکھا قومی و اجتماعی مفادات کے گیت گھنگناتے رہے آزاد خیالی کے سایے کو آپ آس پاس تک پڑنے نہیں دیا دھرتی ماں سے غلامی کے نحوست زدہ نقوش کو مِٹاتے گئے اسی لئیے یہ کہنا بجا ہے کہ شھید پیرک جان کامیاب رہا پیرک اپنے کام کو لیکر کامیاب رہا اپنی اخلاص اور جفا میں بھی کامیاب رہا انقلابی اصولوں کی پاسداری میں بھی کامیاب رہا اداروں کے استحکام کی گن گرج کو لیکر کامیاب رہا تاہم اس کے ارمانوں کی تکمیل ابھی باقی ہے جو تحریک سے جُڑے سب ہی دوستوں کی قومی ، انقلابی، اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اخلاص ، انتھک محنت، جفا کشی اور جھد مسلسل سے اسے پانے کی اسی جستجو میں رہیں جس کی ایک زندہ مثال شھید پیرک جان نے قائم کرکے ہمیں عنایت کی ہے

Share This Article
Leave a Comment