خاتون صحافی روسی صدارتی امیدوار کیلئے پوٹن کے مد مقابل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
تصویر: AP/picture alliance

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے اگلے برس مئی کے وسط میں مجوزہ روسی صدارتی انتخابات میں شرکت کا اعلان کیا گیا ہے۔

سن 2000 سے روسی اقتدار پر براجمان پوٹن کا یہ اعلان سیاسی حلقوں میں ایک طرح سے متوقع معاملہ ہی تھا۔ تاہم ان کے مقابلے میں 40 سالہ ٹی وی اینکر ایکاتیرینا رنتسووا نے میدان میں اترنے کا اعلان کیا ہے۔

دنتسووا کا تعلق فقط ساٹھ ہزار آبادی والے قصبے ریسہیف سے ہے، جو ماسکو کے مغرب میں واقع ہے۔

تین بچوں کی ماں دنتسووا کا کہنا ہے، اس وقت روس کی صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ شہریوں کی نمائندگی کرنے والے ایسے افراد جو جمہوری نکتہ ہائے نگاہ رکھتے ہیں وہ یا تو جیل میں ہیں یا ان پر پابندیاں ہیں یا وہ جبر کا سامنا کر رہے ہیں اور یا وہ جلاوطنی میں ہیں۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں وہ ایک حقیقی متبادل ہو سکتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا،ایک خاتون کو صدر کیوں نہیں ہونا چاہیے جو نرمی، رحم دلی اور احساس کی حامل ہوں؟‘‘

باقاعدہ صدارتی امیدوار تک پہنچنا ابھی ایک طویل عمل ہے۔حکمران قوم پرست جماعت یونائیڈ رشیا کی جانب سے پوٹن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جا چکا ہے، مگر دنتسووا کے پاس کسی جماعت کی جانب سے نامزدگی نہیں۔ باقاعدہ طور پر صدارتی امیدوار بننے کے لیے انہیں اکتیس جنوری تک اپنے حامیوں سے تین لاکھ دستخط درکار ہوں گے۔

ایک علاقائی سیاست دان کے طور پر خدمات انجام دینے والی ایک خاتون کے لیے یہ ٹاسک کوئی آسان نہیں۔

دنتسووا نے جوں ہی صدارتی امیدوار بننے کے لیے منصوبے کااعلان کیا ان سے یوکرین میں روس کے خصوصی عسکری آپریشن‘ کی بابت پوچھا گیا، جس کے جواب میں دنتسووا نے امن کی حمایت کی تاہم یوکرین میں جنگ کا ذکر نہیں کیا۔

وہ بیان دیتے ہوئے انتہائی محتاط رہتی ہیں کیوں روسی قانون کے مطابق روسی فوج کے خلاف‘ کوئی بھی بیان غیرقانونی عمل ہے اور اس کے نتیجے میں کسی شخص کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment