بلوچستان کے ادرلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5249 دن ہوگئے۔
بلوچ وطن پارٹی کے کنوینرحیدر رئیسانی، سی سی کے ممبر فیصل بلوچ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔
اس موقع پروی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ انسان ایک ہدف متعین کرکے حصول کی کوشش میں تن من دھن کی بازی لگا دیتا ہے اور خاص طور پر جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ جس ہدف کے حصول کے لئے کوشاں ہے اگر اس کی جزبے ہمت و لگن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ پر اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے جان کی بازی لگانے سے بھی چنداں دریغ نہیں کرتا خواہ اس کی راہ میں کوئی مضبوط چٹان بن کر کھڑا کیوں نہ ہو وہ اس چٹان کو چکنا چور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1948 سے لیکر بلوچستان کے الحاق تک اور تب سے لیکر اب خواہ وہ مقتدرہ ہو یا جمہوریت کے دعویدار سب کی ملی بگھت حیل و حجت اور شازشوں سے بلوچوں کو بتدریغ نشانہ بنانے کی روش جاری ہے ریاست اپنے چناو اور تحفظ کے لیے ہمیشہ اس درتی کا استعمال کیا وہ راسکو کے کہساروں پر ایٹمی دھماکے کی صورت میں ہو یا بڑے پیمانے پر فوجی چاونیئوں کی شکل و صورت میں لیکن انکے عوض میں انہیں کیا ملا ظلم و ستم جبر و بربریت نت نئی سزائیں گو نتا ناموبے اور ابو غریب کے زندانوں میں جہاں غیر مذہب قوم کے حلقہ ارادات کا قانون پر باہے لیکن ایک اسلامی ریاست میں ان سے بھی بدتر عقوبت خانے اور ابو عریب کی کال کو ٹھٹریوں پر سبقت لے جاتی ہیں جو قوم 75 سالوں سے محکومی کی زندگی بسر کررہی ہے جسے آج تک ریاست نے من حیث القوم تسلیم کرنا تو درکنار انسانیت کے مساوی حقوق دنیا بھی گوارہ نہیں کیا باقی بچی کچھی امیدیں عدلیہ کی آزادی مرکوز تھیں وہ کار نامہ بھی ارانجام ہو چکا کہ آذاد عدلیہ کا قیام ممکن ہو سکا کہ عدل انصاف فیصلے بنا کسی ہچکچاہٹ کے سنائے جائیں گے۔