پاکستان سے افغانستان جانے والوں میں 60 فیصد بچے ہیں، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو: اے پی

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور سے متعلق رابطہ کار ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ ، "افغانستان جانےوالوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ بچے ہیں۔ "

اقوام متحدہ اور افغانستان میں ساتھی امدادی اداروں نے کہاہے کہ انہیں ان سینکڑوں افغان خاندانوں کی مدد کے لیے فوری طور پر فنڈز کی ضرورت ہے جو پڑوسی ملک پاکستان سے گرفتاری اور ملک بدری سے بچنے کے لیےروزانہ افغانستان واپس آرہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ، "ان کی حالت مایوس کن ہے جن میں سے بہت سوں نے کئی دن تک سفر کیا ہے اور ان پر یہ واضح نہیں ہے کہ انہیں واپس کہاں جانا ہے ، اور وہ سرحد پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے یہ بیان معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کے ایک روز بعد جاری کیا جب اس کے کنٹری چیف ، ڈینیئل اینڈریس نے افغانستان اور پاکستان کی سرحدی گزرگاہ طورخم کا دورہ کیا تاکہ وہاں پہنچنے والے نئے خاندانوں سے ملاقات کریں اور صورت حال کا جائزہ لیں ۔

پاکستانی حکومت نے اکتوبر کے شروع میں قانونی دستاویز کے بغیر ملک میں رہنے والے سترہ لاکھ افغان شہریوں سمیت تمام غیر ملکیوں کو، یہ انتباہ کرتے ہوئے ملک چھو ڑنے کا حکم دیا تھا کہ جو کوئی یکم نومبر کے بعد ملک میں رہا اسے گرفتار کرلیا جائے گا اور اس کے اصل ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔

افغانستان کی طالبان حکومت کے مطابق اس وقت سے اب تک دو لاکھ سےزیادہ افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ افغان شہری اپنے وطن واپس آنے کے لیے پاکستان کی جنوب مغربی چمن کی سرحد بھی استعمال کر رہے ہیں۔

طالبان نے واپس آنے والے خاندانوں کو فوری پناہ گاہ ، خوراک ،صحت کی دیکھ بھال اور دوسری سہولیات کی فراہمی کےلیے سرحد کی اپنی جانب عارضی کیمپ قائم کر دیے ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment