بلوچستان وپاکستان میں غیرقانونی مقیم افراد کی وطن واپسی کی ڈیڈلائن ختم، گرفتاریاں شروع

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان اورپاکستان میں غیرقانونی مقیم افراد کی وطن واپسی کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی اور گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر بلوچستان وپاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن تکنیکی طور پر گزشتہ شب ختم ہو گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وطن واپسی سے انکار کرنے والے غیرملکیوں کے خلاف آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

بلوچستان و پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی مہلت ختم ہوتے ہی ملک گیر آپریشن شروع کردیا گیاہے۔اس سلسلے میں کراچی میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی پہلی گرفتاریاں بھی کر لی گئی۔

کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں کے دوران گرفتار 4 افغان شہریوں کو ہولڈنگ کیمپ منتقل کردیا گیا، مہلت ختم ہونے سے پہلے غیرقانونی مقیم افراد کیلئے مساجد سے اعلانات بھی کیے گئے تھے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے گزشتہ روز کہا کہ افغان مہاجرین سمیت غیرقانونی تارکین وطن کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر کو ختم ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن کا آغاز ہو جائے گا۔

تاہم صوبوں کے مختلف عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ یکم نومبر کو رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے غیرملکیوں کو پریشان نہیں کیا جائے گا لیکن جو لوگ واپسی کے لیے بارڈر پہنچنے کو تیار نہیں ہیں، انہیں ’ہولڈنگ سینٹرز‘ میں رکھا جائے گا جوکہ چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی قائم کیے گئے ہیں۔

دریں اثنا بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن آج بدھ کی شام 4 بجے تک رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران 30 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن اپنے ممالک واپس جا چکے ہیں جن میں ایرانی، عراقی اور افغان شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ یکم نومبر غیرقانونی تارکین وطن کی رضاکارانہ وطن واپسی کی آخری تاریخ تھی، آج شام سے پاکستان میں تاحال غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کے خلاف فارنرز ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے اور ان کے اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment