دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ دو لاکھ 79 ہزار سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ میکسیکو سٹی کے متعدد ہسپتالوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کے باعث جگہ ختم ہو گئی ہے جبکہ جاپان کے کچھ علاقوں سے ہنگامی صورتحال اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
نیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ دو لاکھ 79 ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے بدستور دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں 13 لاکھ سے زائد متاثرین ہیں جبکہ 78 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا اور جاپان لاک ڈاؤن اور ہنگامی صورتحال میں نرمی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ کینیڈا کے وزیرِ اعظز جسٹن ٹروڈو نے اپنے ملک میں ایسا کرنے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
چین اور جنوبی کوریا میں ایک بار پھر کئی ہفتوں بعد متاثرین کی بلند ترین یومیہ تعداد سامنے آئی ہے۔ جنوبی کوریا میں وائرس کی نئی لہر نائٹ کلب جانے والے ایک شخص سے شروع ہوئی۔
وائٹ ہاؤس میں ایک کورونا متاثر اہلکار سے رابطے میں آنے کے بعد امریکہ کے صفِ اول کے طبی عہدیداران ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی، ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ، اور ڈاکٹر سٹیفن ہان نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
امریکی نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری کیٹی ملر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ایک اور اہلکار میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا تھا۔سپین: یومیہ اموات کی تعداد مارچ کے وسط سے کم ترین سطح پر
اتوار کے روز 143 ہلاکتیں ریکارڈ
سپین میں کورونا وائرس کے سبب ہلاکتوں کی تعداد میں اتوار کو ایک مرتبہ پھر کمی دیکھنے میں آئی جہاں گذشتہ روز 179 ہلاکتوں کے مقابلے میں آج 143 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق یہ مارچ کے وسط سے اب تک کم ترین یومیہ اموات ہیں۔
وزارت کے اعلامیے کے مطابق سپین میں اموات کی کْل تعداد 26 ہزار 621 ہے جبکہ متاثرین کی کْل تعداد دو لاکھ 24 ہزار 390 ہے۔