بلوچستان افغان بارڈر پر پاسپورٹ سسٹم کیخلاف دھرنا جاری، کوئٹہ چمن شاہراہ بند

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان افغان بین الاقوامی شاہراہ پر چمن بارڈر پر پاسپورٹ ریجیم سسٹم نافذ کرنے کے خلاف نویں روز بھی دھرنا جاری ہے۔

ہزاروں افرادپاسپورٹ سسٹم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، دھرنے میں بچے بوڑھے جوان شریک ہیں۔

دھرنے سے خطاب میں ممتاز تاجر حاجی نصیب اللہ نے کہاکہ ہمارے بچوں پر روزگار بند کرنا اور پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں عوام کو روزگار فراہم کرنا ملک میں دورایہ نظام یہاں کے لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم قبائل صدیوں سے اس سر زمین پر آباد ہے اور ہمارے لوگوں کا روزگار اس بارڈر سے وابستہ ہیں آج سے ڈیڈ سال پہلے انگریزوں نے اس بارڈر کو بند نہیں کیا آج بھی ان انگریزوں کے مورچے درہ کوڑک پر بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک کے مختلف شہروں میں روزگار کیلئے کارخانے اور صنعتیں موجود ہے مگر یہاں کے غریب عوام کیلئے اس بارڈر کے علاوہ روزگار کمانے کیلئے اور کوئی ذریعہ نہیں میرے وزیراعظم انوارالحق کاکڑ آرمی چیف جنرل عاصم منیر احمد اور و دیگر ذمہ داران سے اپیل ہے کہ ہمارے بچوں پر روزگار کے دروازے بند نہ کیے جائیں ان کے مائیں بہنے اور بچے بھوکے ہیں اور کو دو وقت کا روزگار کمانے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کیلئے صحت اور تعلیم کے علاوہ دو گھنٹوں کیلئے بجلی بھی میسر نہیں ایران کے ساتھ بارڈر پر بھی ہمارے بلوچ بھائی قومی شناختی کارڈ پر ہی ایران جاتے ہیں تو ہمارے لوگوں نے کیا گناہ کیا ہے جو کو بے جا تنگ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے کہتا ہوں کے یہ جو ہزاروں لوگوں آج بارڈر شاہراہ پر آٹھ دن سے سراپا احتجاج ہے یہ نہ آپ کے خلاف ہے نہ اپنے ملک اور نہ ہی پاکستان کے قوانین کے خلاف ہے یہ صرف اپنے بچوں کے روزگار کیلئے سڑکوں پر نکلے ہیں آج سے پانچ سال پہلے میرے والد جو موجودہ میئر میونسپل کارپوریشن ہے نے پاک افغان بارڈر پر لگنے والے باڑ کی مخالفت میں پریس کانفرنس کیا تھا جس کو کچھ لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہم اس وقت کے ان چیزوں کے خلاف تھے ۔

انہوں نے کہاکہ ہم پاک افغان بارڈر پر پاسپورٹ سسٹم کو مسترد کرتے ہمارے کرنل بریگیڈ اور آرمی چیف سے اپیل ہے کہ آپ آپ لوگوں بڑنا نہیں چاہتے ہمارے لوگوں کو روزگار کمانے دیا جائے۔

انہوں نے پاکستان کا افغانستان کے مابین جو بھی مسئلے انہیں حل کیا جائے ہم کمزور ہے بے غیرت نہیں افغان حکومت سے ہم اپیل کرتے ہیں ہمارے لوگوں کی بات سنی جائے یہاں آباد لوگ بھی آپ کے گورنمنٹ کے حامی لوگ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد ہم کابل گئے تھے اور وہاں یہ طے پایا تھا کہ کوئٹہ سے کندھار تک کوئی پاسپورٹ سسٹم نافذ نہیں ہو گا اس معدے میں بھی میں خود موجود تھا افغان سائڈ سے مولوی حسن مولوی عمر کا بیٹا موجود تھا اب اگر ملک میں نیا قانون نافذ کرنا چاہتے یہ الگ بات ہے۔

Share This Article
Leave a Comment