بلوچستان حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن دوسری جانب بلوچستان سے70ہزار سے زائد شناختی کارڈز کو مشکوک ہونے کی بنیاد پر بلاک کیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان سے غیر قانونی طور مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، بلوچستان سے اب تک 16ہزار سے زائد غیر ملکی تارکین وطن رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جاچکے ہیں جبکہ یکم نومبر کے بعد غیرملکی تارکین وطن کو رکھنے کے لیے کوئٹہ شہر میں حاجی کیمپ کو ہولڈنگ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں مزید ہولڈنگ سینٹرز کے علاوہ پشین اور چمن میں بھی ہولڈنگ سینٹرز قائم کیئے جائیں گے اور بلوچستان سے 70ہزار سے زائد شناختی کارڈز کو مشکوک ہونے کی بنیاد پر بلاک کیا گیا ہے اور زیادہ تر مشکوک شناختی کارڈز چمن سے بنائے گئے ہیں ۔
ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے اورچمن کے علاوہ غیر ملکی تارکین وطن کو افغانستان بھیجنے کے علاوہ تین مزید کراسنگ پوائنٹس قائم کیئے جارہے ہیں جبکہ تین میں سے ایک کراسنگ پوائنٹ قلعہ سیف اللہ میں قمردین کاریز میں جبکہ دو ضلع چاغی میں قائم کیئے جارہے ہیں۔