افغانستان میں مزید 2 ملین باشندوں کوامدادی خوراک کی ترسیل منقطع کردی گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث رواں ماہ سے مزید دو ملین افغان باشندوں کو مہیا کی جانے والی امدادی اشیائے خوراک کی ترسیل منقطع کر دی جائے گی۔

عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی طرف سے منگل پانچ ستمبر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ادارہ مالی وسائل کی شدید کمی کے نتیجے میں اور بہت مجبور ہو کر رواں ماہ مزید دو ملین افغان شہریوں کو مہیا کی جانے والی امدادی اشیائے خوراک کی تقسیم روک دے گا۔

اس طرح ایسے افغان باشندوں کی تعداد اب دس ملین ہو جائے گی، جو صرف رواں برس کے دوران ہی عالمی خوراک پروگرام کی طرف سے ملنے والی امداد کی بندش کے متاثرین ہوں گے۔

افغانستان میں عالمی خوراک پروگرام کی ڈائریکٹر سیاؤ وے لی کے مطابق، ہم اپنے پاس موجود بہت ہی کم وسائل کے باعث اب اس قابل نہیں رہے کہ ان تمام افغان شہریوں کو امداد کے طور پر اشیائے خوراک مہیا کر سکیں، جنہیں انتہائی حد تک محرومی کا سامنا ہے۔‘‘

عالمی خوراک پروگرام کے مطابق اسے افغان عوام کی مدد کے لیے اگلے چھ ماہ کے دوران ایک بلین ڈالر درکار ہیںعالمی خوراک پروگرام کے مطابق اسے افغان عوام کی مدد کے لیے اگلے چھ ماہ کے دوران ایک بلین ڈالر درکار ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment