طالبان نے سابق افغان حکومت سے وابستہ 218افراد قتل کردیئے ، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ نے منگل کو کہا کہ اس نے افغانستان میں کم از کم 218ماورائے عدالت قتل اور سینکڑوں دیگر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں اور ان سب کا تعلق طالبان کے افغانستان پر دو سال سے جاری اقتدارسے ہے۔

متاثرین میں مبینہ طور پر بیشتر ایسے افراد شامل تھے جن کا تعلق کابل میں امریکی حمایت یافتہ سابق حکومت سے تھا۔ ان افراد میں فوجی، انٹیلی جنس اور پولیس اہلکار شامل تھے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) یا یوناما نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا کہ ’’بیشتر صورتوں میں ان افراد کو ڈی فیکٹو (طالبان) سیکورٹی فورسز کی جانب سے ان کی موت سے پہلے کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا گیا۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ کچھ افراد کو حراست میں لے کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ دوسروں کو قتل کرنے سے پہلے نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا۔ اس کے بعد ان کی لاشوں کو یا تو پھینک دیا گیا یا پھر ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔

یوناما نے ماورائے عدالت قتل، گرفتاری، تشدد اور جبری گمشدگی کے 800 واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے اوراس کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے سابق افغان اہلکاروں کے لیے عام معافی کے اعلان کےباوجود یہ واقعات پیش آئے۔

امریکی زیرقیادت نیٹو فوجیوں نے تقریباً 20 سال کی جنگ کے بعد افغانستان سے انخلا کیا تو اس وقت کے باغی طالبان نے 15 اگست 2021 کو ملک کا دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا ۔ یو ناما کی طرف سے رپورٹ کی گئی زیادہ تر ہلاکتیں طالبان کے ملک پر قبضہ کرنے کے چار ماہ کے دوران ہوئیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment