بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچی اکیڈمی کا 65واں سالانہ جنرل باڈی اجلاس چیئرمین سنگت رفیق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں جنرل سیکریٹری ڈاکٹر بیزن سبا نے رپورٹ میں گزشتہ سال کے دوران منعقد کئے گئے ادبی سرگرمیوں اور تقریبات، نشر واشاعت ودیگر منصوبوں کے متعلق ممبران کو آگہی دی۔
اس کے علاوہ سالانہ رپورٹ میں مالی اخراجات کے بارے میں ممبران کو بریفنگ دی گئی اور منظوری لی گئی۔
اکیڈمی کے ممبران نے وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ادب دوستی کا مظاہرہ کرکے بلوچی اکیڈمی کے سالانہ گرانٹ کو بڑھا کر پانچ کروڑ کردیا ہے۔ ممبران نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بلوچستان حکومت بلوچی زبان و ادب کے لیے خدمات انجام دینے والے ادبی اداروں کی سالانہ گرانٹ کو بھی بڑھایا جائے گا۔
بلوچی اکیڈمی کے ممبران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھائے جانے والے بلوچی مضمون کا نصاب بنانے اور بلوچی کو پڑھانے کے عمل کو بھی روک دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ممبران نے مطالبہ کیا کہ اسکولوں میں بلوچی زبان کو پڑھانے کے لیے بلوچی ٹیچر تعینات کیے جائیں۔
اکیڈمی کے ممبران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کالج لیول میں بلوچستان کے مختلف کالجز کے لیے بلوچی کی خالی اسامیوں کو پبلک سروس کمیشن کے تحت مشتہر کرکے استاد مقرر کیے جائیں تاکہ سرکاری کالجوں میں بلوچی پڑھانے کے عمل میں تیزی لائی جاسکے۔
ڈاکٹر بیزن سبا نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اکیڈمی نے اس سال بلوچی زبان کی ڈیجیٹیلائزیشن کے لیے ایک موبائل ایپلی کیشن تیار کی ہے کہ جس میں اکیڈمی کی چھاپ کردہ کتابیں پڑھنے کے لیے میسر رکھی گئی ہیں۔اس کے علاوہ تحقیق سمیت ادب و تاریخ کے موضوعات پر کئی کتابیں چھاپی گئی ہیں۔
اکیڈمی نے مجلس عاملہ کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کے لیے تعلیمی مواد کی تیاری ، غیر ملکی زبانوں کی کلاسیک تخلیقات کو بلوچی زبان میں ترجمہ اور بلوچی کے شاہکار ادبی و تاریخی مواد کو انگریزی یا دیگر زبانوں میںترجمہ ،بلوچی زبان کے لہجوں اور تاریخ کے بارے میں تحقیق و اشاعت اور بلوچستان کی تاریخ کے بارے میںاقدامات اٹھائے۔
جنرل باڈی کے ممبران نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اسمبلی ممبران کی توجہ اس جانب دلائی کہ بلوچی زبان سمیت بلوچستان کی بڑی زبانوں پشتو اور براہوئی کو سرکاری پرائمری اسکولوں میں پڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔
ممبران نے بلوچی اکیڈمی کی کارکردگی کے بارے میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی نے پچھلے کچھ عرصے سے تحقیقی مقالوں پر مشتمل سیمینار منعقد کیے ہیں اور تحقیق کی جانب زیادہ توجہ مرکوز کی ہے جس سے بلوچی زبان کی زبان و ادب کے فروغ میں مددمل رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچی اکیڈمی کی تیار کردہ موبائل اپیلی کیشن بھی اس جانب ایک اہم قدم ہے۔
پینسٹھویں اجلاس میں یہ قرار پیش کیے گئے اور حکومت بلوچستان سمیت متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری پرائمری اسکولوں میں بلوچی ، پشتو اور براہوئی کے باقاعدہ استاد (ٹیچر) مقرر کیے جائیں اور پرائمری سکولوں میں ان زبانوں کو پڑھانے کے عمل کو دوبارہ جاری کیا جائے۔ پیش کردہ قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ بلوچی زبان کے لیے سرگرم عمل ایسے حقیقی ادارے جو کئی سالوں سے بلوچی زبان و ادب کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔حکومت بلوچستان ان اداروں کے سالانہ گرانٹ مختص کرے جس طرح ملک کے دیگر صوبوں میں دیگر قومی زبانوں کے لیے درجنوں اداروں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے اسی طرح گوادر یونیورسٹی میں بلوچی ڈیپارٹمنٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی میں بلوچی زبان کو پڑھانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ریڈیو اور ٹی وی پراگراموں کو معیاری بنانے کے علاوہ ان نشریات کے دورانیہ کو بھی بڑھایا جائے۔ اس کے علاوہ بلوچی ایف ایم ریڈیو کا براڈ کاسٹ شروع کیا جائے۔