روس نے بحیرہ اسود کے راستے دیگر ممالک تک یوکرینی زرعی اجناس کی ترسیل سے متعلق ڈیل میں توسیع سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ڈیل ترکی اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں گزشتہ برس طے پائی تھی۔
اس ڈیل کو بچانے کے لیے ترکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم روس نے بحیرہ اسود کے ذریعے ایشیا اور افریقہ میں خوراک کے بحران کے شکار ممالک تک یوکرینی زرعی اجناس کی ترسیل کی عالمی ڈیل کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس روسی اقدام سے مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے متعدد علاقوں میں خوراک کے بحران کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
ماسکو حکومت کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس ڈیل کو روکنے کے اعلان میں کہا کہ روسی مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے، تو روس دوبارہ اس معاہدے پر عمل درآمد شروع کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا، جب بحیرہ اسود ڈیل سے جڑے روسی مفادات پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا، تو روس بھی دوبارہ اس معاہدے پر لوٹ آئے گا۔‘‘
اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں گزشتہ برس موسم گرما میں یوکرین اور روسی نے اس انتہائی اہم معاہدے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت بحیرہ اسود سے اجناس کی ترسیل شروع ہو گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی روسی اجناس کی بحیرہ اسود کے راستے محفوظ ترسیل سے متعلق ایک علیحدہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت روسی خوراک اور کھادوں کو مغربی پابندیوں سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔
واضع رہے کہ روس اور یوکرین دنیا بھر میں گندم، جو، سورج مکھی کے تیل اور دیگر خوراک کی برآمدکے اعتبار سے سرفہرست ہیں۔