افغانستان: طالبان دور میں ایک ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کی خبر کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) کے مطابق 15 اگست 2021 سے رواں سال مئی کے درمیان ایک ہزار 95 شہری ہلاک اور 2 ہزار 679 زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کئی دہائیوں کی جنگ کے خاتمے کے باوجود خطے میں پائے جانے والے سیکیورٹی چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان میں سے 700 سے زیادہ اموات دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد پھٹنے کی وجہ سے ہوئیں جن میں خودکش بم دھماکے بھی شامل ہیں، یہ دھماکے مساجد، تعلیمی مراکز اور بازاروں جیسے عوامی مقامات پر ہوئے۔

اگرچہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلح لڑائی میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی لیکن سیکیورٹی چیلنجز خاص طور پر داعش کی طرف سے خطرات بدستور موجود ہیں۔

یو این اے ایم اے کے مطابق یہ عسکریت پسند گروپ زیادہ تر حملوں کا ذمہ دار تھا، رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ پرتشدد واقعات کی تعداد میں کمی کے باوجود حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ ہوا ہے۔

یو این اے ایم اے کے اعداد و شمار نہ صرف اس طرح کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے شہری آبادی کا نقصان اجاگر کرتے ہیں بلکہ 15 اگست 2021 کے بعد سے خودکش حملوں کی ہلاکت خیزی میں بھی اضافے کو ظاہر کرتے ہیں جن کے مطابق کم حملوں کے نتیجے میں زیادہ تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔

یو این اے ایم اے کے مطابق ایک ہزار 700 سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے والے واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment